Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
452 - 520
کے باسی ہیں اور افسوس یہ ہے کہ ہمارے ہاں ایسوں کی کثرت ہے ۔ہمارے واعظین، خطباء اور پیر صاحبان جو کچھ بیان فرماتے ہیں سب کے سامنے ہے۔ خوفِ خدا، قبر کی تیاری، آخرت کی فکر، بارگاہِ الٰہی کی جواب دہی پر شاید ہی کبھی کلام ہو اور رحمت کے موضوع پر اس قدر بیان کہ لوگ جَری ہوچکے ہیں۔اور اس کے نتیجے میں قوم کی عملی حالت کہاں پہنچی ہوئی ہے وہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔اس حوالے سے امت کے حکیم، امام غزالی  رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا حقیقت شَناس کلام پڑھئے۔ آپ نے کیمیائے سعادت میں تحریر فرمایا ہے: (اگر) علماء بھی وعظ و نصیحت کی بجائے بازاری مقررین کا انداز اختیار کر لیں ،لغویات وواہیات، بیہودہ گوئی اور بیکار باتوں سے دل بہلانا شروع کر دیں جو عموماً دیکھا گیا ہے تو لوگ غلط فہمی میں مبتلا ہو جائیں گے کہ کوئی بات نہیں ہم جو کچھ بھی کرتے ہیں رحمت ِخداوندی ہمارے شامل حال رہے گی تو قوم کا حال غافلین سے بد تر ہو جائے گا۔ ظاہر ہے جب عام آدمی مجلسِ وعظ میں ایسی خرافات سنے گالازماً ویسی ہی صفات اس میں پید ا ہوں گی ، آخرت کے خطرات سے ڈرنا تو در کنار، اس کے دل سے آخرت کا خیال بھی نکل جائے گا، پھر اسے جو کچھ بھی کہا جائے وہ یہی کہتا رہے گا : اللہ عَزَّوَجَلَّ بڑا رحیم وکریم ہے، میرے گناہوں سے اس کا کیا بگڑتا ہے؟ اورا س کی جنت کوئی تنگ و تاریک معمولی سی کوٹھڑی تھوڑی ہے بلکہ وہ تو زمین و آسمان سے بھی زیادہ وسیع وکشادہ ہے وہاں تو کروڑوں انسان بآسانی سما جائیں گے تو مجھ جیسے گناہگار سے اللہ تعالیٰ کا تنگ آ جانا خدا کی رحمت سے بعید ہے۔ ایسی ایسی لغویات اس کے دل و دماغ پر مسلط ہو جاتی ہیں۔ (کیمیائے سعادت، رکن سوم: مہلکات،اصل دہم، علاج غفلت ونادانی، ۲/۷۳۲)
	 ذرا غور کریں کہ کیا امام غزالی  رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا فرمان ہمارے آج کے معاشرے پر صادق نہیں آتا۔
فَکَیۡفَ اِذَا جَمَعْنٰہُمْ لِیَوْمٍ لَّا رَیۡبَ فِیۡہِ۟ وَوُفِّیَتْ کُلُّ نَفْسٍ مَّا کَسَبَتْ وَہُمْ لَا یُظْلَمُوۡنَ﴿۲۵﴾
ترجمۂکنزالایمان: تو کیسی ہوگی جب ہم انہیں اکٹھا کریں گے اس دن کے لئے جس میں شک نہیں اور ہر جان کو اس کی کمائی پوری بھر دی جائے گی اور ان پر ظلم نہ ہوگا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو کیسی حالت ہوگی جب ہم انہیں اس دن کے لئے اکٹھا کریں گے جس میں کوئی شک نہیں اور ہر جان کو اس کی پوری کمائی دی جائے گی اور ان پر ظلم نہ ہوگا۔