Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
451 - 520
دی۔ یہودی اس حرکت پر ذلیل و رسواہوئے اور وہ یہودی مردو عورت جنہوں نے زنا کیا تھا حضورِ اکرم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے حکم سے سنگسار کئے گئے ،اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔        (خازن، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۲۳، ۱/۲۳۹)
ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ قَالُوۡا لَنۡ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّاۤ اَیَّامًا مَّعْدُوۡدٰتٍ۪ وَّ غَرَّہُمْ فِیۡ دِیۡنِہِمۡ مَّا کَانُوۡا یَفْتَرُوۡنَ﴿۲۴﴾
ترجمۂکنزالایمان: یہ جرأت انہیں اس لئے ہوئی کہ وہ کہتے ہیں ہرگز ہمیں آگ نہ چھوئے گی مگر گنتی کے دنوں اور ان کے دین میں انہیں فریب دیا اس جھوٹ نے جو باندھتے تھے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: یہ جرأت انہیں اس لئے ہوئی کہ وہ کہتے ہیں : ہرگز ہمیں آگ نہ چھوئے گی مگر گنتی کے چنددن اور انہیں ان کی (ایسی ہی) من گھڑت باتوں نے ان کے دین کے بارے میں دھوکے میں ڈالاہوا ہے۔
{ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ قَالُوۡا: یہ جرأت انہیں اس لئے ہوئی کہ وہ کہتے ہیں۔} آیت میں فرمایا گیا کہ یہودیوں کو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی کتاب اور اس کے احکام سے منہ پھیرنے کی یہ جرأت اس لئے ہوئی کہ انہوں نے اپنی نجات و بخشش کے من گھڑت خیالات پال رکھے ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ یہ کہتے ہیں : ہمیں جہنم کی آگ ہرگز نہ چھوئے گی مگر گنتی کے چنددن  یعنی چالیس دن یا ایک ہفتہ پھر کچھ غم نہیں۔ یا یہودی کہتے تھے کہ’’ ہم اللہ عَزَّوَجَلَّ کے پیارے ہیں (المائدہ : ۱۸) اللہ تعالیٰ نے اس طرزِ عمل پر فرمایا کہ’’ ان کی ایسی ہی من گھڑت باتوں نے ان کے دین کے بارے میں انہیں دھوکے میں ڈالا ہوا ہے۔
عمل سے منہ پھیر کر امید کی دنیا میں گھومنے کا انجام:
	 ہمارے لئے اس میں درسِ عبرت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی قوم کی تباہی اسی صورت میں ہوتی ہے جب وہ عمل سے منہ پھیر کر صرف آرزو اور امید کی دنیا میں گھومتی رہتی ہے۔ جو شخص لاکھوں روپے کمانے کی تمنا رکھتا ہے لیکن اس کیلئے محنت کرنے کو تیار نہیں وہ کبھی ایک روپیہ بھی نہیں کما سکتا۔ جو قوم ترقی کرنے کی خواہشمند ہو لیکن اپنی بداعمالیاں ، کام چوریاں اور خیانتیں چھوڑنے کو تیار نہیں وہ کبھی ترقی کی شاہراہ پر قدم نہیں رکھ سکتی۔ یونہی جو لوگ اطاعت ِ الٰہی اور اتباعِ رسول  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے قریب بھی نہ آئیں اور اپنی نسبتوں پر پھولتے پھریں وہ بھی احمقوں کی دنیا