Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
442 - 520
زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّہَوٰتِ مِنَ النِّسَآءِ وَالْبَنِیۡنَ وَالْقَنٰطِیۡرِ الْمُقَنۡطَرَۃِ مِنَ الذَّہَبِ وَالْفِضَّۃِ وَالْخَیۡلِ الْمُسَوَّمَۃِ وَالۡاَنْعٰمِ وَالْحَرْثِؕ ذٰلِکَ مَتٰعُ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَاۚ وَاللہُ عِنۡدَہٗ حُسْنُ الْمَاٰبِ﴿۱۴﴾
ترجمۂکنزالایمان: لوگوں کے لئے آراستہ کی گئی ان خواہشوں کی محبت عورتیں اور بیٹے اور تلے اوپر سونے چاندی کے ڈھیر اور نشان کئے ہوئے گھوڑے اور چوپائے اور کھیتی یہ جیتی دنیا کی پونجی ہے اور اللہ ہے جس کے پاس اچھا ٹھکانا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: لوگوں کے لئے ان کی خواہشات کی محبت کو آراستہ کردیا گیا یعنی عورتوں اور بیٹوں اور سونے چاندی کے جمع کئے ہوئے ڈھیروں اور نشان لگائے گئے گھوڑوں اور مویشیوں اور کھیتیوں کو( ان کے لئے آراستہ کردیا گیا۔) یہ سب دنیوی زندگی کا سازوسامان ہے اور صرف اللہ کے پاس اچھا ٹھکاناہے۔ 
{زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّہَوٰتِ: لوگوں کے لئے ان کی خواہشات کی محبت کو آراستہ کردیا گیا۔} لوگوں کیلئے من پسند چیزوں کی محبت کو خوشنما بنادیا گیا، چنانچہ عورتوں ، بیٹوں ، مال و اولاد، سونا چاندی، کاروبار، باغات، عمدہ سواریوں اور بہترین مکانات کی محبت لوگوں کے دلوں میں رچی ہوئی ہے اور اِس آراستہ کئے جانے اوران چیزوں کی محبت پیدا کئے جانے کا مقصد یہ ہے کہ خواہش پرستوں اور خدا پرستوں کے درمیان فرق ظاہر ہوجائے ،چنانچہ سورۂ کہف ، آیت7 میں صراحت سے ارشاد فرمایا
اِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَی الْاَرْضِ زِیۡنَۃً لَّہَا لِنَبْلُوَہُمْ اَیُّہُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا ﴿۷﴾(سورۃ الکہف:۷)
ترجمۂکنزُالعِرفان:بیشک ہم نے زمین پر موجود چیزوں کو اس لئے زینت بنایا تاکہ ہم لوگوں کو آزمائیں کہ ان میں عمل کے اعتبار سے کون اچھا ہے۔ 
	چنانچہ یہ چیزیں ایسی مرغوب ہوئیں کہ کافر تو بالکل ہی آخرت سے غافل ہو گئے اور کفر میں جاپڑے جبکہ دوسرے لوگ بھی انہی چیزوں کی محبتوں کے اسیر ہوگئے حالانکہ یہ تو دنیاوی زندگی گزارنے کا سامان ہے کہ اس سے کچھ عرصہ نفع پہنچتا ہے پھر یہ سامانِ دنیا فنا ہوجاتا ہے۔ انسان کو چاہیے کہ دنیا کے سامان کو ایسے کا م میں خرچ کرے جس میں اس کی عاقبت کی درستی اور آخرت کی سعادت ہو۔یہ تمام چیزیں اگر دنیا کے لئے رکھی جائیں تو دنیا ہیں اور اگراطاعت ِ الٰہی میں