Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
440 - 520
کی آیتوں اور اس کے رسولوں عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو جھٹلانے والوں پر اللہ تعالیٰ کا عذاب بڑا سخت ہے۔
قُلْ لِّلَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا سَتُغْلَبُوۡنَ وَتُحْشَرُوۡنَ اِلٰی جَہَنَّمَؕ وَبِئْسَ الْمِہَادُ﴿۱۲﴾
ترجمۂکنزالایمان: فرمادو، کافروں سے کوئی دم جاتا ہے کہ تم مغلوب ہوگے اور دوزخ کی طرف ہانکے جاؤ گے اور وہ بہت ہی برا بچھونا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: ان کافروں سے کہہ دو کہ عنقریب تم مغلوب ہوجاؤگے اور دوزخ کی طرف ہانکے جاؤ گے اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔
{سَتُغْلَبُوۡنَ: عنقریب تم مغلوب ہوجاؤگے۔ }حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ جب بدر میں کفار کو رسولِ اکرم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ شکست دے کر مدینہ طیبہ واپس تشریف لائے تو یہودیوں نے کہا کہ’’ قریش تو فُنونِ حَرب (جنگی طریقوں ) سے نا آشنا ہیں ، (اسی لئے شکست کھا گئے۔) اگر ہم سے مقابلہ ہوا تو معلوم ہوجائے گا کہ لڑنے والے کیسے ہوتے ہیں۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی   (در منثور، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۱۲، ۲/۱۵۸) 
	اور انہیں یہ غیبی خبر دی گئی کہ’’ وہ دنیا میں مغلوب ہوں گے، قتل کئے جائیں گے ،گرفتار کئے جائیں گے اور ان پر جِزیَہ مقرر کیا جائے گا  اور آخرت میں دوزخ کی طرف ہانکے جائیں گے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور کچھ ہی عرصے میں یہودی قتل بھی ہوئے، گرفتار بھی کئے گئے اور اہلِ خبیر پر جزیہ بھی مقرر کیا گیا اور قیامت کے دن انہیں جہنم کی طرف ہانکا جائے گا۔
قَدْ کَانَ لَکُمْ اٰیَۃٌ فِیۡ فِئَتَیۡنِ الْتَقَتَاؕ فِئَۃٌ تُقٰتِلُ فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ وَاُخْرٰی کَافِرَۃٌ یَّرَوْنَہُمۡ مِّثْلَیۡہِمْ رَاۡیَ الْعَیۡنِؕ وَاللہُ یُؤَیِّدُ بِنَصْرِہٖ مَنۡ یَّشَآءُؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَعِبْرَۃً لِّاُولِی الۡاَبْصٰرِ﴿۱۳﴾
ترجمۂکنزالایمان: بیشک تمہارے لئے نشانی تھی دو گروہوں میں جو آپس میں بھڑ پڑے ایک جتھا اللہ کی راہ میں لڑتا اور دوسرا کافر کہ انہیں آنکھوں دیکھا اپنے سے دونا سمجھیں اور اللہ اپنی مدد سے زور دیتا ہے جسے چاہتا ہے بیشک اس میں عقلمندوں کے لئے ضرور دیکھ کر سیکھنا ہے ۔