Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
429 - 520
سورۂ اٰلِ عمران
سورۂ اٰلِ عمران کا تعارف
 مقامِ نزول:
	سورۂ آلِ عمران مدینہ طیبہ میں نازل ہوئی ہے۔(خازن، ال عمران، ۱/۲۲۸)
آیات،کلمات اور حروف کی تعداد:
 	اس میں 20رکوع، 200 آیتیں ،3480 کلمات اور14520حروف ہیں۔ (خازن، ال عمران، ۱/۲۲۸)
’’اٰلِ عمران‘‘ نام رکھے جانے کی وجہ:
	آل کا ایک معنی ’’اولاد‘‘ ہے اور اس سورت کے چوتھے اور پانچویں رکوع میں آیت نمبر33تا 54میں حضرت مریم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا کے والد عمران کی آل کی سیرت اور ان کے فضائل کا ذکر ہے ،اس مناسبت سے اس سورت کا نام’’سورۂ آلِ عمران‘‘ رکھا گیا ہے۔
 سورۂ اٰلِ عمران کے فضائل:
	اس سورت کے مختلف فضائل بیان کئے گئے ہیں ، ان میں سے 3فضائل درجِ ذیل ہیں۔
(1) …حضرت نواس بن سمعان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’ قیامت کے دن قرآنِ مجید اور اس پر عمل کرنے والوں کو لایا جائے گا، ان کے آگے سورۂ بقرہ اور سورۂ آلِ عمران ہوں گی۔ حضرت نواس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ان سورتوں کے لئے تین مثالیں بیان فرمائیں جنہیں میں آج تک نہیں بھولا، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’یہ دونوں سورتیں ایسی ہیں