کرنا شامل ہے خواہ وہ کسی غریب کو کھانا کھلانا ہو یا کسی کو کپڑے پہنانا، کسی غریب کو دوائی وغیرہ لے کر دینا ہو یا راشن دلانا، کسی طالب علم کو کتاب خرید کر دینا ہو یا کوئی شِفا خانہ بنانا یا فوت شدگان کے ایصالِ ثواب کیلئے فُقراء و مساکین کو تیجے، چالیسویں وغیرہ پر کھلادیا جائے۔
{اَنۡۢبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ: دانے نے سات بالیاں اگائیں۔} یہاں فرمایا گیا کہ بیج کے طور پر ڈالے جانے والے دانے نے بالیاں اگائیں حالانکہ اگانے والاحقیقت میں اللہ تعالیٰ ہی ہے، دانہ کی طرف اس کی نسبت مجازی ہے۔
مجازی نسبت کرنا جائز ہے:
اس سے معلوم ہوا کہ مجازی نسبت کرنا جائز ہے جب کہ یہ نسبت کرنے والا غیرِ خدا کو تَصَرُّف و اختیار میں مستقل نہ سمجھے۔ اسی لیے یہ کہنا جائز ہے کہ یہ دوا نافع ہے اور یہ مضر ہے، یہ در دکی دافع ہے، ماں باپ نے پالا، عالم نے گمراہی سے بچایا، بزرگوں نے حاجت روائی کی وغیرہ۔ ان سب میں مجازی نسبت ہے اور مسلمان کے اعتقاد میں فاعلِ حقیقی صرف اللہ تعالیٰ ہے باقی سب وسائل ہیں۔
نیک اعمال میں یکسانیت کے باوجود ثواب میں فرق ہوتا ہے:
نیز یہ بھی یاد رہے کہ نیک اعمال تویکساں ہوتے ہیں مگر ثواب میں بعض اوقات بہت فرق ہوتا ہے یا تواس لئے کہ اخلاص اور حسنِ نیت میں فرق ہوتا ہے یا حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی نسبت کی وجہ سے تھوڑا عمل زیادہ ثواب کا باعث ہوتا ہے جیسا کہ حضورپرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا کہ اگر تم میں سے کوئی اُحد پہاڑ کے برابر سونا (اللہ تعالیٰ کی راہ میں ) خرچ کرے تو ا س کا ثواب میرے کسی صحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے ایک مُد (ایک چھوٹی سی مقدار) بلکہ آدھا مُد خرچ کرنے کے برابر بھی نہیں ہو سکتا۔
(بخاری، کتاب فضائل اصحاب النبی، باب قول النبی: لو کنت متخذاً خلیلاً، ۲/۵۲۲، الحدیث: ۳۶۷۳)
اَلَّذِیۡنَ یُنۡفِقُوۡنَ اَمْوٰلَہُمْ فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ ثُمَّ لَا یُتْبِعُوۡنَ مَاۤ اَنۡفَقُوۡا مَنًّا وَّلَاۤ اَذًیۙ لَّہُمْ اَجْرُہُمْ عِنۡدَ رَبِّہِمْۚ وَلَا خَوْفٌ عَلَیۡہِمْ وَلَا ہُمْ یَحْزَنُوۡنَ﴿۲۶۲﴾
ترجمۂکنزالایمان: وہ جو اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں پھر دیئے پیچھے نہ احسان رکھیں نہ تکلیف دیں ان کا