Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
391 - 520
یعنی یقین تو پہلے ہی تھا ، اب عینُ الْیَقین حاصل ہوگیا۔ پھر آپ اپنی اس سواری پر سوار ہو کر اپنے محلہ میں تشریف لائے سرِ اقدس اور داڑھی مبارک کے بال سفید تھے، عمر وہی چالیس سال کی تھی، کوئی آپ کو نہ پہچانتا تھا۔ اندازے سے اپنے مکان پر پہنچے، ایک ضعیف بڑھیا ملی جس کے پاؤں رہ گئے تھے، وہ نابینا ہوگئی تھی، وہ آپ کے گھر کی باندی تھی اور اس نے آپ کو دیکھا ہوا تھا، آپ نے اس سے دریافت فرمایا کہ یہ عُزیر کا مکان ہے اس نے کہا ہاں ، لیکن عُزیر کہاں ، انہیں تو غائب ہوئے سو سال گزر گئے۔ یہ کہہ کروہ خوب روئی۔ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے فرمایا: میں عُزیر ہوں ، اس نے کہا، سُبْحَانَ اللہ! یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے سو سال موت کی حالت میں رکھ کر پھر زندہ کیا ہے۔ اس نے کہا، حضرت عُزیر عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام مُسْتَجابُ الدَّعْوات تھے، جو دعا کرتے قبول ہوتی، آپ دعا کیجئے کہ میری آنکھیں دوبارہ دیکھنا شروع کردیں تاکہ میں اپنی آنکھوں سے آپ کو دیکھوں۔ آپ نے دعا فرمائی اور وہ عورت بینا ہوگئی۔ آپ نے اس کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا، خدا کے حکم سے اٹھ۔ یہ فرماتے ہی اس کے معذور پاؤں درست ہوگئے۔ اس نے آپ کو دیکھ کر پہچانا اور کہا میں گواہی دیتی ہوں کہ آپ بے شک حضرتِ عُزیر عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامہیں۔ وہ آپ کو بنی اسرائیل کے محلے میں لے گئی، وہاں ایک مجلس میں آپ کے فرزند تھے جن کی عمر ایک سو اٹھارہ سال کی ہوچکی تھی اور آپ کے پوتے بھی تھے جو بوڑھے ہوچکے تھے۔ بڑھیا نے مجلس میں پکارا کہ یہ حضرت عُزیر عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام تشریف لائے ہیں۔ اہلِ مجلس نے اس عورت کو جھٹلایا۔ اس نے کہا، مجھے دیکھو، ان کی دعا سے میری حالت ٹھیک ہوگئی ہے۔ لوگ اٹھے اور آپ کے پاس آئے، آپ کے فرزند نے کہا کہ میرے والد صاحب کے کندھوں کے درمیان سیاہ بالوں کا ایک ہلال یعنی چاند تھا، جسم مبارک کھول کر دکھایا گیا تو وہ موجود تھا، نیزاس زما نہ میں توریت کا کوئی نسخہ باقی نہ رہا تھا، کوئی اس کا جاننے والا موجود نہ تھا۔ آپ نے تمام توریت زبانی پڑھ دی۔ ایک شخص نے کہا کہ مجھے اپنے والد سے معلوم ہوا کہ بخت نصر کی ستم انگیزیوں کے بعد گرفتاری کے زمانہ میں میرے دادا نے توریت ایک جگہ دفن کردی تھی اس کا پتہ مجھے معلوم ہے اس پتہ پر جستجو کرکے توریت کا وہ دفن شدہ نسخہ نکالا گیا اور حضرت عُزیر عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے اپنی یاد سے جو توریت لکھائی تھی اس سے مقابلہ کیا گیا تو ایک حرف کا فرق نہ تھا۔(خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۵۹، ۱/۲۰۲-۲۰۳، جمل، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۵۹، ۱/۳۲۵، ملتقطاً)
وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰہٖمُ رَبِّ اَرِنِیۡ کَیۡفَ تُحْیِ الْمَوْتٰیؕ قَالَ اَوَلَمْ تُؤْمِنۡؕ قَالَ بَلٰی وَلٰکِنْ لِّیَطْمَئِنَّ قَلْبِیۡؕ قَالَ فَخُذْ اَرْبَعَۃً مِّنَ الطَّیۡرِ فَصُرْہُنَّ