جوان منتخب کیے جن میں حضرت داؤد عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بھی تھے۔ (جلالین، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۴۸، ص۳۸، جمل، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۴۸، ۱/۳۰۴، خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۴۸، ۱/۱۸۷-۱۸۹، مدارک، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۴۸، ص۱۲۹، ملتقطاً)
طالوت کے پاس تابوت سکینہ آنے والے واقعہ سے معلوم ہونے والے مسائل:
اس واقعے سے کئی مسائل معلوم ہوئے:۔
(1)… بزرگوں کے تبرکات کا اعزاز و احترام لازم ہے، ان کی برکت سے دعائیں قبول ہوتی ہیں اور حاجتیں پوری ہوتی ہیں۔
(2)…تبرکات کی تعظیم گزشتہ انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسے چلتی آرہی ہے۔سورہ ٔیوسف میں بھی حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے کُرتے کی برکت سے حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی آنکھوں کی روشنی درست ہونے کا واقعہ مذکور ہے۔
(3)… تبرکات کی بے ادبی و گستاخی گمراہ لوگوں کا طریقہ ہے اور بربادی کا سبب ہے۔
(4) …جب تبرکات کی گستاخی گمراہی اور تباہی ہے تو جن ہستیوں کے تبرکات ہوں ان کی بے ادبی اور گستاخی کس قدر سنگین اور خطرناک ہوگی۔
(5)… اللہ تعالیٰ کے پیاروں سے نسبت رکھنے والی ہر چیز بابرکت ہوتی ہے جیسے تابوت میں حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے نعلین شریفین یعنی پاؤں میں پہننے کے جوڑے بھی برکت کا ذریعہ تھے۔ یاد رہے کہ مذکورہ بالا تابوت میں انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی جو تصویریں تھیں وہ کسی آدمی کی بنائی ہوئی نہ تھیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئی تھیں۔
فَلَمَّا فَصَلَ طَالُوۡتُ بِالْجُنُوۡدِۙ قَالَ اِنَّ اللہَ مُبْتَلِیۡکُمۡ بِنَہَرٍۚ فَمَنۡ شَرِبَ مِنْہُ فَلَیۡسَ مِنِّیۡۚ وَمَنۡ لَّمْ یَطْعَمْہُ فَاِنَّہٗ مِنِّیۡۤ اِلَّا مَنِ اغْتَرَفَ غُرْفَۃًۢ بِیَدِہٖۚ فَشَرِبُوۡا مِنْہُ اِلَّا قَلِیۡلًا مِّنْہُمْؕ فَلَمَّا جَاوَزَہٗ ہُوَ وَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَہٗ ۙ قَالُوۡا لَا طَاقَۃَ لَنَا الْیَوْمَ بِجَالُوۡتَ وَجُنُوۡدِہٖؕ قَالَ الَّذِیۡنَ یَظُنُّوۡنَ اَنَّہُمۡ مُّلٰقُوا اللہِۙ کَمۡ مِّنۡ فِئَۃٍ قَلِیۡلَۃٍ غَلَبَتْ فِئَۃً کَثِیۡرَۃًۢ بِاِذْنِ اللہِؕ وَاللہُ مَعَ الصّٰبِرِیۡنَ﴿۲۴۹﴾