Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
356 - 520
(2)… دودھ پلانے میں دو سال کی مدت کا پورا کرنا لازم نہیں۔ اگر بچہ کو ضرورت نہ رہے اور دودھ چھڑانے میں اس کے لیے خطرہ نہ ہو تو اس سے کم مدت میں بھی چھڑانا ، جائز ہے۔		  (خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۳۳، ۱/۱۷۳)
(3)… بچہ کی پرورش اور اس کو دودھ پلوانا باپ کے ذمہ واجب ہے اس کے لیے وہ دودھ پلانے والی مقرر کرے لیکن اگر ماں اپنی رغبت سے بچہ کو دودھ پلائے تو مستحب ہے۔ 
(4)…شوہر اپنی بیوی کو بچہ کے دودھ پلانے کے لیے مجبور نہیں کرسکتا اور نہ عورت شوہر سے بچہ کے دودھ پلانے کی اجرت طلب کرسکتی ہے جب تک کہ اس کے نکاح یا عدت میں رہے۔
(5)… اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کو طلاق دی ہواور عدت گزر چکی ہوتو وہ اس سے بچہ کے دودھ پلانے کی اجرت لے سکتی ہے۔ 
(6)…بچے کے اخراجات باپ کے ذمہ ہوں گے نہ کہ ماں کے ذمہ۔ 
	 آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بچے کا نسب باپ کی طرف شمار کیا جاتا ہے کیونکہ اللہ  تعالیٰ نے ’’مَوْلُوۡدٌ‘‘ یعنی ’’بچے ‘‘کو ’’لَہٗ‘‘یعنی مذکر کی ضمیر کی طرف منسوب کرکے بیان فرمایا، لہٰذا اگر باپ سید ہو اور ماں غیر سیدہو تو بچہ سید ہے اور اگر باپ غیر سید اور ماں سیدانی ہو تو بچہ غیر سید ہی شمار ہوگا۔
 {وَعَلَی الْوَارِثِ مِثْلُ ذٰلِکَ: اور جو باپ کا قائم مقام ہے اس پر بھی ایسا ہی ہے۔} یعنی اگر باپ فوت ہوگیا ہو تو جو ذمہ داریاں باپ پر ہوتی ہیں وہ اب اُس کے قائم مقام پر ہو ں گی۔ 
وَالَّذِیۡنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنۡکُمْ وَیَذَرُوۡنَ اَزْوٰجًا یَّتَرَبَّصْنَ بِاَنۡفُسِہِنَّ اَرْبَعَۃَ اَشْہُرٍ وَّعَشْرًاۚ فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَہُنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیۡکُمْ فِیۡمَا فَعَلْنَ فِیۡۤ اَنۡفُسِہِنَّ بِالْمَعْرُوۡفِؕ وَاللہُ بِمَا تَعْمَلُوۡنَ خَبِیۡرٌ﴿۲۳۴﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور تم میں جو مریں اور بیبیاں چھوڑیں وہ چار مہینے دس دن اپنے آپ کو روکے رہیں تو جب ان کی عدت پوری ہو جائے تو اے والیوتم پر مواخذہ نہیں اس کام میں جو عورتیں اپنے معاملہ میں موافق شرع کریں اور اللہ  کو تمہارے کاموں کی خبر ہے۔