سے اچھی اگرچہ وہ تمہیں بھاتی ہو اور مشرکوں کے نکاح میں نہ دو جب تک وہ ایمان نہ لائیں اور بیشک مسلمان غلام مشرک سے اچھا اگرچہ وہ تمہیں بھاتا ہو، وہ دوزخ کی طرف بلاتے ہیں اور اللہ جنت اور بخشش کی طرف بلاتا ہے اپنے حکم سے اور اپنی آیتیں لوگوں کے لئے بیان کرتا ہے کہ کہیں وہ نصیحت مانیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اورمشرکہ عورتوں سے نکاح نہ کرو جب تک مسلمان نہ ہوجائیں اور بیشک مسلمان لونڈی مشرکہ عورت سے اچھی ہے اگرچہ وہ تمہیں پسند ہو اور (مسلمان عورتوں کو) مشرکوں کے نکاح میں نہ دو جب تک وہ ایمان نہ لے آئیں اور بیشک مسلمان غلام مشرک سے اچھا ہے اگرچہ وہ مشرک تمہیں پسندہو، وہ دوزخ کی طرف بلاتے ہیں اور اللہ اپنے حکم سے جنت اور بخشش کی طرف بلاتا ہے اور اپنی آیتیں لوگوں کے لئے بیان کرتا ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔
{وَ لَا تَنۡکِحُوا الْمُشْرِکٰتِ: اور مشرکہ عورتوں سے نکاح نہ کرو۔} یہ آیت حضرت مرثد غَنَوِی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے بارے میں نازل ہوئی ،وہ ایک بہادر شخص تھے۔ سرکارِ دوعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے انہیں مکہ مکرمہ روانہ فرمایا تاکہ وہاں سے کسی تدبیر کے ساتھ مسلمانوں کو نکال لائیں۔وہاں عَناق نامی ایک مشرکہ عورت تھی جو زمانہ جاہلیت میں ان کے ساتھ محبت کرتی تھی، وہ حسین اور مالدار تھی جب اُس کو اِن کے آنے کی خبر ہوئی تو وہ آپ کے پاس آئی اور اپنی طرف دعوت دی ۔آپ نے خوفِ الٰہی کی وجہ سے اس سے اِعراض کیا اور فرمایا کہ اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا تب اس نے نکاح کی درخواست کی توآپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا کہ یہ بھی رسولِ خدا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی اجازت پر موقوف ہے۔ چنانچہ پھر اپنے کام سے فارغ ہو کر جب آپ نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے تو صورت ِ حال عرض کرکے نکاح کے متعلق دریافت کیا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی (خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۲۱، ۱/۱۶۰)
اور فرمایا گیا کہ مشرکہ عورتوں سے نکاح کی اجازت نہیں اگرچہ وہ تمہیں پسند ہوں۔ البتہ یہ یاد رہے کہ اہلِ کتاب یعنی یہودی، عیسائی عورت سے نکاح کی اجازت ہے ۔ اس کی تفصیل سورہ مائدہ آیت5میں آئے گی۔
{وَلَاَمَۃٌ مُّؤْمِنَۃٌ خَیۡرٌ مِّنۡ مُّشْرِکَۃٍ: اور بیشک مسلمان لونڈی مشرکہ عورت سے اچھی ہے۔} شانِ نزول: ایک روز حضرت عبداللہبن رواحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کسی خطا پر اپنی باندی کے طمانچہ مارا پھر نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر اس کا ذکر کیا۔ سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ا س کی ایمانی حالت کے متعلق دریافت کیا ۔ عرض کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی رسالت کی گواہی دیتی