Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
334 - 520
(3)…اس آیت سے صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کی شان بھی معلوم ہوئی کہ کفار نے صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم پر اعتراض کیا اور اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کی طر ف سے کفار کوجواب دیا۔ 
{وَلَا یَزَالُوۡنَ یُقٰتِلُوۡنَکُمْ: اوروہ ہمیشہ تم سے لڑتے رہیں گے۔} اس آیت میں خبر دی گئی کہ کفار مسلمانوں سے ہمیشہ عدوات رکھیں گے اور جہاں تک ان سے ممکن ہوگا وہ مسلمانوں کو دین سے منحرف کرنے کی کوشش کرتے رہیں گے چنانچہ آج دنیا میں یہی ہورہا ہے، کفار کی ہزاروں تنظیمیں مسلم اور غیر مسلم ممالک میں اپنا دین، اپنا کلچر، اپنی تہذیب پھیلانے میں مشغول ہیں۔ جہاں اصل اسلام سے پھیر سکیں وہاں اسلام سے پھیرنے کی کوشش کرتی ہیں ، جہاں یہ نہ ہوسکے وہاں لوگوں کوقرآن کی من مانی تاویلوں میں لگادیتی ہیں ، حدیثوں کے انکار میں لگادیتی ہیں ، نت نئے فتنوں میں مبتلا کردیتی ہیں۔ اگر ایمانیات پر حملہ نہ کرسکیں تو اخلاقیات تباہ کرکے ایمان کمزور کرنے میں لگی ہوئی ہیں الغرض آیت کی حقانیت واضح ہے کہ کفار تمہیں ہمیشہ دین سے پھیرنے کی کوششوں میں لگے رہیں گے۔ 
{وَمَنۡ یَّرْتَدِدْ مِنۡکُمْ عَنۡ دِیۡنِہٖ: اور تم میں جو کوئی اپنے دین سے مرتد ہوجائے۔} مرتد ہونے سے تمام عمل باطل ہو جاتے ہیں ، آخرت میں تو اس طرح کہ ان پر کوئی اجرو ثواب نہیں اور دنیا میں اس طرح کہ شریعت حکومت ِ اسلامیہ کو مُرتد کے قتل کا حکم دیتی ہے، مرد مرتد ہوجائے تو بیوی نکاح سے نکل جاتی ہے،مرتد شخص اپنے رشتے داروں کی وراثت پانے کا مستحق نہیں رہتا، مرتد کی تعریف کرنا اور اس سے تعلق رکھنا جائز نہیں ہوتا۔ چونکہ مرتد ہونے سے تمام اعمال برباد ہو جاتے ہیں لہٰذا اگر کوئی حاجی مرتد ہو جائے پھر ایمان لائے تو وہ دوبارہ حج کرے، پہلا حج ختم ہو چکا۔ اسی طرح زمانہ اِرتِداد میں جو نیکیاں کیں وہ قبول نہیں۔جو حالت ِ ارتداد میں مرگیا وہ ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں رہے گاجیسا کہ آیت کے آخر میں ’’ہُمْ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ‘‘ فرمایا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو خاتمہ بالخیر نصیب کرے۔یاد رکھیں کہ مرتد ہونا بہت سخت جرم ہے، افسوس کہ آج کل مسلمانوں کی اکثریت دین کے بنیادی عقائد سے لاعلم ہے، شادی و مرگ اور ہنسی مذاق کے موقع پر کفر یہ جملوں کی بھرمار ہے، گانے، فلمیں ، ڈرامے خصوصاً مزاحیہ ڈرامے کفریات کا بہت بڑا ذریعہ ہیں ، ان چیزوں سے بچانے والے علوم کا حاصل کرنا فرض ہے۔ (1)
اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ الَّذِیۡنَ ہَاجَرُوۡا وَجٰہَدُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِۙ اُولٰٓئِکَ یَرْجُوۡنَ رَحْمَتَ اللہِؕ وَاللہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ﴿۲۱۸﴾
1: اس سلسلے میں امیرِ اہلِسنّت دَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی تالیف ،،کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب،، (مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)کا ضرور مطالعہ کیجئے۔
ترجمۂکنزالایمان: وہ جو ایمان لائے اور وہ جنہوں نے اللہ کے لئے اپنے گھر بار چھوڑے اور اللہ کی راہ میں لڑے وہ رحمت الٰہی کے