{وَ زُلْزِلُوۡا: اور انہیں زور سے ہلا ڈالا گیا۔} سابقہ امتوں کی تکلیف و شدت اس انتہاء کو پہنچ گئی کہ فرمانبردار مومن بھی مدد طلب کرنے میں جلدی کرنے لگے اور اللہ کے رسولوں نے بھی اپنی امت کے اصرار پر فریاد کی حالانکہ رسول بڑے صابر ہوتے ہیں اور ان کے اصحاب بھی لیکن باوجود ان انتہائی مصیبتوں کے وہ لوگ اپنے دین پر قائم رہے اور کوئی مصیبت ان کے حال کو مُتغَیّر نہ کرسکی چنانچہ ان کی فریاد پر بارگاہِ الٰہی سے جواب ملا کہ سن لو، بیشک اللہ تعالیٰ کی مدد قریب ہے ، اس جواب سے انہیں تسلی دی گئی اور یہی تسلی حضور پرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کو دی گئی۔ اس آیت اور تفسیر میں مبلغین کیلئے اور نئے مسلمان ہونے والوں کے لئے اور نئے نئے کسی نیکی کے ماحول اپنانے والوں کیلئے تسلی اور بشارت ہے کہ وہ صبرواستقامت کے ساتھ اپنی تبلیغ، دین اور نیکی پر چلتے رہیں۔
یَسْـَٔلُوۡنَکَ مَاذَا یُنۡفِقُوۡنَؕ قُلْ مَاۤ اَنۡفَقْتُمۡ مِّنْ خَیۡرٍ فَلِلْوٰلِدَیۡنِ وَالۡاَقْرَبِیۡنَ وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسٰکِیۡنِ وَابْنِ السَّبِیۡلِؕ وَمَا تَفْعَلُوۡا مِنْ خَیۡرٍ فَاِنَّ اللہَ بِہٖ عَلِیۡمٌ﴿۲۱۵﴾
ترجمۂکنزالایمان: تم سے پوچھتے ہیں کیا خرچ کریں ، تم فرماؤ جو کچھ مال نیکی میں خرچ کروتو و ہ ماں باپ اور قریب کے رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں اور راہ گیر کے لئے ہے اور جو بھلائی کروبیشک اللہ اسے جانتا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: آپ سے سوال کرتے ہیں کیا خرچ کریں ؟تم فرماؤ: جو کچھ مال نیکی میں خرچ کرو تو و ہ ماں باپ اور قریب کے رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں اور مسافر کے لئے ہے اور تم جو بھلائی کرو بیشک اللہ اسے جانتا ہے۔
{یَسْـَٔلُوۡنَکَ مَاذَا یُنۡفِقُوۡنَ: آپ سے سوال کرتے ہیں کیا خرچ کریں ؟۔} یہ آیت حضرت عمرو بن جموح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے جواب میں نازل ہوئی جو بوڑھے شخص تھے اور بڑے مالدار تھے، انہوں نے رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سے سوال کیا تھا کہ کیا خرچ کریں اور کس پر خرچ کریں ؟ اس آیت میں انہیں بتادیا گیا (خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۱۵، ۱/۱۵۲)
کہ جس قسم کا اور جس قدر مال قلیل یا کثیرخرچ کرو اس میں ثواب ہے اور خرچ کرنے کی جگہیں یہ ہیں یعنی والدین، رشتے دار، یتیم، مسکین اور مسافر۔ یہاں دو مسائل ذہن نشین رکھیں :