بربادی کا ذریعہ بنتے ہیں۔
وَ اِذَا قِیۡلَ لَہُ اتَّقِ اللہَ اَخَذَتْہُ الْعِزَّۃُ بِالۡاِثْمِ فَحَسْبُہٗ جَہَنَّمُؕ وَلَبِئْسَ الْمِہَادُ﴿۲۰۶﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور جب اس سے کہا جائے کہ اللہ سے ڈر تو اسے اور ضد چڑھے گنا ہ کی ایسے کو دوزخ کافی ہے اور وہ ضرور بہت برا بچھونا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جب اس سے کہا جائے کہ اللہ سے ڈرو تو اسے ضد مزید گناہ پر ابھارتی ہے توایسے کو جہنم کافی ہے اور وہ ضرور بہت برا ٹھکاناہے۔
{وَ اِذَا قِیۡلَ لَہُ: اور جب اس سے کہا جائے۔} منافق آدمی کی ایک علامت یہ ہوتی ہے کہ اگر اسے سمجھایاجائے تو اپنی بات پراڑ جاتا ہے، دوسرے کی بات ماننا اپنے لئے توہین سمجھتا ہے، نصیحت کئے جانے کو اپنی عزت کا مسئلہ بنالیتا ہے۔ افسوس کہ ہمارے ہاں ایسے لوگوں کی بھرمار ہے، گھروں میں دیکھ لیں تو لڑکی والے لڑکے یا اس کے گھر والوں کو نہیں سمجھا سکتے،چھوٹے خاندان والے بڑے خاندان والوں کو نہیں سمجھا سکتے، عام آدمی کسی چودھری کو نہیں سمجھاسکتا، عوام کسی دنیوی منصب والے کو نہیں سمجھا سکتے، مسجدوں میں کوئی نوجوان عالم یا دینی مُبلغ کسی پرانے بوڑھے کو نہیں سمجھا سکتا، جسے سمجھایا وہی گلے پڑ جاتا ہے۔ دینی شعبے میں بھی اس خرابی کی کچھ کمی نہیں۔اللہ تعالیٰ ہمارے حال کی اصلاح فرمائے۔
وَ مِنَ النَّاسِ مَنۡ یَّشْرِیۡ نَفْسَہُ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللہِؕ وَاللہُ رَءُوۡفٌۢ بِالْعِبَادِ﴿۲۰۷﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور کوئی آدمی اپنی جان بیچتا ہے اللہ کی مرضی چاہنے میں اور اللہ بندوں پر مہربان ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور لوگوں میں سے کوئی وہ ہے جو اللہ کی رضا تلاش کرنے کے لئے اپنی جان بیچ دیتا ہے اور اللہ بندوں پر بڑا مہربان ہے۔
{مَنۡ یَّشْرِیۡ نَفْسَہُ: جو اپنی جان بیچتا ہے۔} شانِ نزول: حضرت صُہیب رومی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ مکہ معظمہ سے ہجرت کرکے حضور پر نورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی خدمت میں مدینہ طیبہ کی طرف روانہ ہوئے، مشرکین قریش کی ایک جماعت