زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّہَوٰتِ مِنَ النِّسَآءِ وَالْبَنِیۡنَ وَالْقَنٰطِیۡرِ الْمُقَنۡطَرَۃِ مِنَ الذَّہَبِ وَالْفِضَّۃِ وَالْخَیۡلِ الْمُسَوَّمَۃِ وَالۡاَنْعٰمِ وَالْحَرْثِؕ ذٰلِکَ مَتٰعُ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَاۚ وَاللہُ عِنۡدَہٗ حُسْنُ الْمَاٰبِ﴿۱۴﴾ قُلْ اَؤُنَبِّئُکُمۡ بِخَیۡرٍ مِّنۡ ذٰلِکُمْؕ لِلَّذِیۡنَ اتَّقَوْا عِنۡدَ رَبِّہِمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیۡ مِنۡ تَحْتِہَا الۡاَنْہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا وَ اَزْوٰجٌ مُّطَہَّرَۃٌ وَّرِضْوٰنٌ مِّنَ اللہِؕ وَاللہُ بَصِیۡرٌۢ بِالْعِبَادِ﴿ۚ۱۵﴾ (ال عمران: ۱۴،۱۵)
ترجمۂکنزُالعِرفان:لوگوں کے لئے ان کی خواہشات کی محبت کو آراستہ کردیا گیا یعنی عورتوں اور بیٹوں اور سونے چاندی کے جمع کئے ہوئے ڈھیروں اور نشان لگائے گئے گھوڑوں اورمویشیوں اور کھیتیوں کو( ان کے لئے آراستہ کردیا گیا) یہ سب دنیوی زندگی کا سازوسامان ہے اور صرف اللہ کے پاس اچھا ٹھکاناہے۔(اے حبیب!)تم فرماؤ ، (اے لوگو!)کیا میں تمہیں ان چیزوں سے بہتر چیز بتادوں ؟ (سنو، وہ یہ ہے کہ)پرہیزگاروں کے لئے ان کے رب کے پاس جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں ان جنتوں میں ہمیشہ رہیں گے اور (وہاں ) پاکیزہ بیویاں اور اللہ کی خوشنودی ہے اور اللہ بندوں کو دیکھ رہا ہے۔
وَمِنْہُمۡ مَّنۡ یَّقُوۡلُ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّ فِی الۡاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ﴿۲۰۱﴾اُولٰٓئِکَ لَہُمْ نَصِیۡبٌ مِّمَّا کَسَبُوۡاؕ وَاللہُ سَرِیۡعُ الْحِسَابِ﴿۲۰۲﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور کوئی یوں کہتا ہے کہ اے رب ہمارے ہمیں دنیا میں بھلائی دے اور ہمیں آخرت میں بھلائی دے اور ہمیں عذاب دوزخ سے بچا۔ایسوں کو ان کی کمائی سے بھاگ ہے اور اللہ جلد حساب کرنے والا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور کوئی یوں کہتا ہے کہ اے ہمارے رب!ہمیں دنیا میں بھلائی عطا فرما اور ہمیں آخرت میں (بھی) بھلائی عطا فرما اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا۔ ان لوگوں کے لئے ان کے کمائے ہوئے اعمال سے حصہ ہے اور اللہ جلد حساب کرنے والا ہے۔
{وَمِنْہُمۡ مَّنۡ یَّقُوۡلُ: اور کوئی یوں کہتا ہے۔}اس آیت میں مذکور مسلمان کی دعا بہت جامع دعا ہے اورتھوڑے الفاظ میں دین و دنیا کی تمام بھلائیاں اس میں مانگی گئی ہیں۔حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ اکثر یہ دعا مانگا کرتے تھے:۔