اگر اس (جرم)میں صدقہ کا حکم ہے اوربمجبوری کیا تو اختیار ہوگا کہ صدقہ کے بدلے ایک روزہ رکھ لے ۔
(بہارِ شریعت، حصہ ششم، جرم اور ان کے کفارے کا بیان،۱/۱۱۶۲)
{فَمَنۡ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَۃِ اِلَی الْحَجِّ: تو جو حج سے عمرہ ملانے کا فائدہ اٹھائے۔} جو شخص ایک ہی سفرمیں شرائط کا لحاظ کرتے ہوئے حج و عمرہ کی سعادت حاصل کرے اس پر شکرانے کے طور پر قربانی لازم ہے اور یہ قربانی عید کے دن والی قربانی نہیں ہوتی بلکہ جداگانہ ہوتی ہے اوراگر قربانی کی قدرت نہ ہو تو اسے حکم ہے کہ دس روزے رکھے، ان میں سے تین روزے حج کے دنوں میں یعنی یکم شوال سے نویں ذی الحجہ تک احرام باندھنے کے بعد کسی بھی تین دن میں رکھ لے، اکٹھے رکھے یا جدا جدا دونوں کا اختیار ہے اور سات روزے 13ذی الحجہ کے بعد رکھے۔مکہ مکرمہ میں بھی رکھ سکتے ہیں لیکن افضل یہ ہے کہ گھر واپس لوٹ کر رکھے۔ (بہار شریعت، حصہ ششم،۱/۱۱۴۰-۱۱۴۱، ملخصاً)
{حَاضِرِی الْمَسْجِدِ الْحَرَام: مکہ کے رہنے والے۔} حجِ تمتع یا حجِ قِران کا جائز ہونا صرف آفاقی یعنی میقات سے باہر والوں کے لئے ہے ۔ حدودِ میقات میں اور اس سے اندر رہنے والوں کے لئے نہ تمتع کی اجازت ہے اورنہ قران کی، وہ صرف حجِ اِفراد کرسکتے ہیں۔
اَلْحَجُّ اَشْہُرٌ مَّعْلُوۡمٰتٌۚ فَمَنۡ فَرَضَ فِیۡہِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوۡقَۙ وَلَا جِدَالَ فِی الْحَجِّؕ وَمَا تَفْعَلُوۡا مِنْ خَیۡرٍ یَّعْلَمْہُ اللہُ ؕؔ وَتَزَوَّدُوۡا فَاِنَّ خَیۡرَ الزَّادِ التَّقْوٰی۫ وَاتَّقُوۡنِ یٰۤاُولِی الۡاَلْبٰبِ﴿۱۹۷﴾
ترجمۂکنزالایمان: حج کے کئی مہینہ ہیں جانے ہوئے تو جو ان میں حج کی نیت کرے تو نہ عورتوں کے سامنے صحبت کا تذکرہ ہو نہ کوئی گناہ، نہ کسی سے جھگڑا حج کے وقت تک اور تم جو بھلائی کرو اللہ اسے جانتا ہے اور توشہ ساتھ لوکہ سب سے بہتر توشہ پرہیزگاری ہے اور مجھ سے ڈرتے رہو اے عقل والو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: حج چند معلوم مہینے ہیں تو جو اِن میں حج کی نیت کرے توحج میں نہ عورتوں کے سامنے صحبت کا تذکرہ ہو اورنہ کوئی گناہ ہو اور نہ کسی سے جھگڑاہو اور تم جو بھلائی کرو اللہ اسے جانتا ہے اورزادِ راہ ساتھ لے لو پس سب سے بہتر زادِ راہ یقیناپرہیزگاری ہے اور اے عقل والو!مجھ سے ڈرتے رہو۔