Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
313 - 520
اَمِنۡتُمْ ٝ فَمَنۡ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَۃِ اِلَی الْحَجِّ فَمَا اسْتَیۡسَرَ مِنَ الْہَدْیِۚ فَمَنۡ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلٰثَۃِ اَیَّامٍ فِی الْحَجِّ وَسَبْعَۃٍ اِذَا رَجَعْتُمْؕ تِلْکَ عَشَرَۃٌ کَامِلَۃٌ ؕ ذٰلِکَ لِمَنۡ لَّمْ یَکُنْ اَہۡلُہٗ حَاضِرِی الْمَسْجِدِ الْحَرَامِؕ وَاتَّقُوا اللہَ وَاعْلَمُوۡۤا اَنَّ اللہَ شَدِیۡدُ الْعِقَابِ﴿۱۹۶﴾٪
ترجمۂکنزالایمان: اور حج اور عمرہ اللہ کے لئے پورا کرو پھر اگر تم روکے جاؤ تو قربانی بھیجو جو میسر آئے اور اپنے سر نہ منڈاؤ جب تک قربانی اپنے ٹھکانے نہ پہنچ جائے پھر جو تم میں بیمار ہو یا اس کے سر میں کچھ تکلیف ہے تو بدلہ دے روزے یا خیرات یا قربانی پھر جب تم اطمینان سے ہو تو جو حج سے عمرہ ملانے کا فائدہ اٹھائے اس پر قربانی ہے جیسی میسر آئے پھر جسے مقدور نہ ہو تو تین روزے حج کے دنوں میں رکھے اور سات جب اپنے گھر پلٹ کر جاؤ یہ پورے دس ہوئے یہ حکم اس کے لئے ہے جو مکہ کا رہنے والا نہ ہو اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ اللہ  کا عذاب سخت ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور حج اور عمرہ اللہ کے لئے پورا کرو پھر اگر تمہیں (مکہ سے) روک دیا جائے تو (حرم میں ) قربانی کا جانور بھیجو جو میسر آئے اور اپنے سر نہ منڈاؤ جب تک قربانی اپنے ٹھکانے پر نہ پہنچ جائے پھر جو تم میں بیمار ہو یا اس کے سر میں کچھ تکلیف ہے تو روزے یا خیرات یا قربانی کا فدیہ دے پھر جب تم اطمینان سے ہو تو جو حج سے عمرہ ملانے کا فائدہ اٹھائے اس پر قربانی لازم ہے جیسی میسر ہو پھر جو (قربانی کی قدرت) نہ پائے تو تین روزے حج کے دنوں میں رکھے اور سات روزے (اس وقت رکھو) جب تم اپنے گھر لوٹ کر جاؤ، یہ مکمل دس ہیں۔یہ حکم اس کے لئے ہے جو مکہ کا رہنے والا نہ ہو اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ اللہ  شدید عذاب دینے والا ہے۔ 
{وَاَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَۃَ لِلہِ:اور حج اور عمرہ اللہ کے لئے پورا کرو۔}آیت میں مراد یہ ہے کہ حج و عمرہ دونوں کو ان کے فرائض و شرائط کے ساتھ خاص اللہ تعالیٰ کے لیے بغیر سستی اور کوتاہی کے مکمل کرو۔ 
حج کی تعریف اور حج و عمرہ کے چند احکام:
	حج نام ہے احرام باندھ کر نویں ذی الحجہ کو عرفات میں ٹھہرنے اور مکہ معظمہ کے طواف کا ۔اس کے لیے خاص وقت