Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
306 - 520
اور ہر زبان کے لوگ پڑھے بھی اور بے پڑھے بھی سب اس سے اپنا حساب معلوم کرلیتے ہیں۔یاد رہے کہ بہت سے احکام میں چاند کا حساب رکھنا ضروری ہے جیسے بالغ ہونے کی عمر کے اعتبار سے ، یونہی روزہ،عیدَین، حج کے مہینوں اور دنوں کے بارے میں ، یونہی زکوٰۃ میں جو سال گزرنے کا اعتبارہے وہ بھی چاند کے اعتبار سے ہے۔ 
{وَلَیۡسَ الْبِرُّ: اوریہ کوئی نیکی نہیں۔} شانِ نزول :زمانہ جاہلیت میں لوگوں کی یہ عادت تھی کہ جب وہ حج کے لیے احرام باندھ لیتے تواپنے مکان میں اس کے دروازے سے داخل نہ ہوتے ،اگر ضرورت ہوتی تو پچھلی دیوار توڑ کر آتے اور اس کو نیکی جانتے۔اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ یہ کوئی نیکی نہیں کہ تم گھروں کے پیچھے سے آؤ۔ اصل نیکی تقویٰ ، خوفِ خدا اور احکامِ الٰہی کی اطاعت ہے ۔				    (تفسیر مدارک، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۸۹، ص۱۰۱)
ممانعت کے بغیر کسی چیز کو ناجائز سمجھنا کیسا؟
	اس سے معلوم ہوا کہ کسی چیز کو بغیر ممانعت کے ناجائز سمجھنا جُہلاء کا کام ہے۔اپنی طرف سے غلط قسم کی رسمیں اور پابندیاں لگالینا جائز نہیں۔ بہت سے کام ویسے جائز ہوتے ہیں لیکن اپنی طرف سے شرعاً ضروری سمجھ لینے سے ناجائز ہو جاتے ہیں جیسے مسلمان فوت شدگان کے ایصالِ ثواب کیلئے سوئم، چالیسواں وغیرہ کرتے ہیں کہ ویسے کریں تو جائز ہیں لیکن اگر یہ سمجھ کرکریں کہ یہ کرنا ضروری ہے یا دوسرے اور چالیسویں دن ہی کرنا ضروری ہے تو ناجائز ہے، یونہی سوئم اور چالیسواں وغیرہ جائز ہے تو انہیں اپنی طرف سے ناجائز کہنا بھی حرام ہے کفار کے طرزِ عمل کی نقالی ہے۔ بہرحال اِفراط و تفریط سے بچنا ضروری ہے اوراس طرح کی چیزوں کی طرف غور کرنا چاہیے، شادی، مَرگ اور زندگی کے دیگر معاملات میں نجانے کیسی کیسی رسمیں کہاں سے گھس آئی ہیں۔ 
وَقٰتِلُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ الَّذِیۡنَ یُقٰتِلُوۡنَکُمْ وَلَا تَعْتَدُوۡاؕ اِنَّ اللہَ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیۡنَ﴿۱۹۰﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور اللہ کی راہ میں لڑو ان سے جو تم سے لڑتے ہیں اور حد سے نہ بڑھو اللہ پسند نہیں رکھتا حد سے بڑھنے والوں کو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اللہ  کی راہ میں ان سے لڑو جو تم سے لڑتے ہیں اور حد سے نہ بڑھو ، بیشک اللہ  حد سے بڑھنے والوں کوپسند نہیں کرتا۔