Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
302 - 520
	یاد رہے کہ بغیر افطار کئے اگلا روزہ رکھ لینا اوریوں مسلسل روزے رکھنا صومِ وصال کہلاتا ہے اور یہ ممنوع ہیں۔ اس کی اجازت صرف حضور پرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو تھی اور یہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی خصوصیات میں سے ہے۔صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے:رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کو صوم ِوصال کے روزے رکھنے سے منع فرمایا تو انہوں نے عرض کی:آپ تو وصال کے روزے رکھتے ہیں ؟ ارشاد فرمایا :تم میں میرے جیسا کون ہے مجھے تو میرا رب عَزَّوَجَلَّکھلاتا اور پلاتا ہے۔
(بخاری، کتاب المحاربین من اہل الکفر والردۃ، باب کم التعزیر والادب، ۴/۳۵۲، الحدیث: ۶۸۵۱)
{وَاَنۡتُمْ عٰکِفُوۡنَ فِی الْمَسٰجِدِ: جبکہ تم مسجدوں میں اعتکاف سے ہو۔} اس میں بیان ہے کہ رمضان کی راتوں میں روزہ دار کے لیے بیوی سے ہم بستری حلال ہے جبکہ وہ معتکف نہ ہولیکن اعتکاف میں عورتوں سے میاں بیوی والے تعلقات حرام ہیں۔
اعتکاف کے فضائل:
	اس آیت میں اعتکاف کرنے والے کے بارے میں ایک شرعی مسئلے کا بیان ہوا، اسی مناسبت سے ہم یہاں اعتکاف کے بارے میں نبی اکرم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کا عمل مبارک،ا عتکاف کے فضائل اور اعتکاف سے متعلق مزید مسائل بیان کرتے ہیں۔ چنانچہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاسے مروی ہے کہ حضور پر نورصَلَّیاللہُ  تَعَالٰیعَلَیْہِوَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ رمضان کے آخری عشرہ کا اعتکاف فرمایا کرتے تھے، یہاں تک کہ اللہ  تعالیٰ نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو وفات دی اور آپ کے بعد آپ کی ازواج مطہرات رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ اعتکاف کیا کرتیں۔ 
(بخاری، کتاب الاعتکاف، باب الاعتکاف فی العشر الاواخر۔۔۔ الخ، ۱/۶۶۴، الحدیث:۲۰۲۶)
	حضرت ابو سعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ حضورا قدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے رمضان المبارک کے پہلے عشرے میں اعتکاف کیا،پھر ایک ترکی خیمہ میں رمضان کے درمیانی عشرے میں اعتکاف کیا جس کے دروازے پر چٹائی لگی ہوئی تھی۔آپ نے اپنے ہاتھ سے وہ چٹائی ہٹائی اور خیمہ کے ایک کونے میں کر دی،پھر خیمہ سے سر باہر نکالا اور لوگوں سے فرمایا:’’میں اس رات (یعنی لیلۃ القدر)کی تلاش میں پہلے عشرے کا اعتکاف کرتا تھا،پھر میں درمیانی عشرہ میں اعتکاف بیٹھا،پھر میرے پاس کوئی(فرشتہ ) آیا تو میری طرف وحی کی گئی کہ یہ آخری عشرے میں ہے، تم میں