Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
300 - 520
فِی الْمَسٰجِدِؕ تِلْکَ حُدُوۡدُ اللہِ فَلَا تَقْرَبُوۡہَاؕ کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللہُ اٰیٰتِہٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّہُمْ یَتَّقُوۡنَ﴿۱۸۷﴾
ترجمۂکنزالایمان: روزوں کی راتوں میں اپنی عورتوں کے پاس جانا تمہارے لئے حلال ہوا وہ تمہاری لباس ہیں اور تم ان کے لباس، اللہ نے جانا کہ تم اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے تھے تو اس نے تمہاری توبہ قبول کی اور تمہیں معاف فرمایا تو اب ان سے صحبت کرو اور طلب کرو جو اللہ نے تمہارے نصیب میں لکھا ہواور کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ تمہارے لئے ظاہر ہوجائے سفیدی کا ڈورا سیاہی کے ڈورے سے پوپھٹ کرپھر رات آنے تک روزے پورے کرواور عورتوں کو ہاتھ نہ لگاؤ جب تم مسجدوں میں اعتکاف سے ہو یہ اللہ کی حدیں ہیں ان کے پاس نہ جاؤ اللہ یوں ہی بیان کرتا ہے لوگوں سے اپنی آیتیں کہ کہیں انہیں پرہیزگاری ملے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تمہارے لئے روزوں کی راتوں میں اپنی عورتوں کے پاس جانا حلال کردیا گیا، وہ تمہارے لئے لباس ہیں اور تم ان کے لئے لباس ہو ۔ اللہکو معلوم ہے کہ تم اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے تھے تو اس نے تمہاری توبہ قبول کی اور تمہیں معاف فرمادیا تو اب ان سے ہم بستری کرلو اور جو اللہ نے تمہارے نصیب میں لکھا ہوا ہے اسے طلب کرو اور کھاؤ اور پیویہاں تک کہ تمہارے لئے فجر سے سفیدی (صبح) کا ڈورا سیاہی(رات) کے ڈورے سے ممتاز ہوجائے پھر رات آنے تک روزوں کو پورا کرو اور عورتوں سے ہم بستری نہ کرو جبکہ تم مسجدوں میں اعتکاف سے ہو۔ یہ اللہ کی حدیں ہیں توان کے پاس نہ جاؤ ۔اللہ یونہی لوگوں کے لئے اپنی آیات کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ وہ پرہیز گار ہوجائیں۔  
 {اُحِلَّ لَکُمْ: تمہارے لئے حلال کر دیا گیا۔} شانِ نزول:شروع اسلام میں افطار کے بعد کھانا پینا، جماع کرنا نمازِ عشاء تک حلال تھا، نمازِ عشا ء کا وقت شروع ہونے کے بعدیہ سب چیزیں بھی حرام ہوجاتی تھیں، یونہی سونے کے بعد بھی یہ چیزیں حرام ہوجاتی تھیں اگرچہ ابھی عشاء کا وقت شروع نہ ہوا ہو۔بعض صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم سے رمضان کی راتوں میں ہم بستری کا فعل سرزد ہوا۔ اس پروہ حضرات نادم ہوئے اور بارگاہِ رسالت  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ میں صورتِ حال عرض کی تو آیت اتری۔
(جلالین وصاوی، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۸۷،۱/۱۵۶،۱۵۷)