دیدی اور رمضان میں بھی راتوں کو کھانے کی اجازت دی بلکہ سحری و افطاری کے کھانے پر ثواب کا وعدہ فرمایا۔ گنتی کے چند جانوروں کا گوشت حرام قرار دیا تو ہزاروں جانوروں ، پرندوں کا گوشت حلال فرمادیا۔ کاروبار کے چند ایک طریقوں سے منع کیا تو ہزاروں طریقوں کی اجازت بھی عطا فرمادی۔ مرد کو ریشمی کپڑے سے منع کیا تو بیسیوں قسم کے کپڑے پہننے کی اجازت دیدی۔ الغرض یوں غور کریں تو آیت کا معنیٰ روزِ روشن کی طرح ظاہر ہوجاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم پر آسانی چاہتا ہے اور وہ ہم پر تنگی نہیں چاہتا۔
{وَ لِتُکْمِلُوا الْعِدَّۃَ: اور تاکہ تم گنتی پوری کرو۔} گنتی پوری کرنے سے مراد رمضان کے انتیس یا تیس دن پورے کرنا ہے اور تکبیر کہنے سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اپنے دین کے طریقے سکھائے تو تم اس پر اللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان کرو اور ان چیزوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو۔
وَ اِذَا سَاَلَکَ عِبَادِیۡ عَنِّیۡ فَاِنِّیۡ قَرِیۡبٌؕ اُجِیۡبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِۙ فَلْیَسْتَجِیۡبُوۡا لِیۡ وَلْیُؤْمِنُوۡا بِیۡ لَعَلَّہُمْ یَرْشُدُوۡنَ﴿۱۸۶﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور اے محبوب جب تم سے میرے بندے مجھے پوچھیں تو میں نزدیک ہوں دعا قبول کرتا ہوں پکارنے والے کی جب مجھے پکارے تو انہیں چاہئے میرا حکم مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں کہ کہیں راہ پائیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اے حبیب! جب تم سے میرے بندے میرے بارے میں سوال کریں تو بیشک میں نزدیک ہوں ، میں دعا کرنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں جب وہ مجھ سے دعا کرے تو انہیں چاہئے کہ میرا حکم مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ ہدایت پائیں۔
{وَ اِذَا سَاَلَکَ عِبَادِیۡ عَنِّیۡ: اور اے حبیب! جب تم سے میرے بندے میرے بارے میں سوال کریں۔} اس آیت میں طالبانِ حق کی طلب ِمولیٰ کا بیان ہے۔ جنہوں نے عشق الٰہی میں اپنی خواہشات کو قربان کردیا ،وہ اُسی کے طلبگار ہیں۔ ان حضرات کو قرب ووصالِ الٰہی کی خوشخبری دی جارہی ہے ۔شانِ نزول :صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمکی ایک جماعت نے جذبہ عشق الٰہی میں سید عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سے دریافت کیا کہ ہمارا ربعَزَّوَجَلَّ کہاں ہے؟ اس پر بتایا گیا کہ اللہ تعالیٰ مکان سے پاک ہے۔
(خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۸۶،۱/۱۲۳)