Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
270 - 520
کسی جگہ جمع ہونے والے لوگ اللہ تعالیٰ کا ذکر کئے بغیر اٹھ گئے تو وہ مجلس ان کے لئے حسرت ہوگی۔(مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب الزہد، کلام عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ، ۸/۱۸۹، الحدیث: ۴)
{کَذٰلِکَ یُرِیۡہِمُ اللہُ اَعْمٰلَہُمْ: اللہ اسی طرح انہیں ان کے اعمال دکھائے گا۔} قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کافروں کے برے اعمال ان کے سامنے کرے گا تو انہیں نہایت حسرت ہوگی کہ انہوں نے یہ کام کیوں کئے تھے۔ ایک قول یہ ہے کہ جنت کے مقامات دکھا کر ان سے کہا جائے گا کہ اگر تم اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کرتے تو یہ تمہارے لیے تھے، پھر جنت کی وہ عالیشان منزلیں مؤمنین کو دیدی جائیں گی ۔(خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۶۷، ۱/۱۱۰)
یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ کُلُوۡا مِمَّا فِی الۡاَرْضِ حَلٰلًا طَیِّبًا ۫ۖ وَّلَا تَتَّبِعُوۡا خُطُوٰتِ الشَّیۡطٰنِؕ اِنَّہٗ لَکُمْ عَدُوٌّ مُّبِیۡنٌ﴿۱۶۸﴾ 
ترجمۂکنزالایمان: اے لوگوں کھاؤ جو کچھ زمین میں حلال پاکیزہ ہے اور شیطان کے قدم پر قدم نہ رکھو، بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔
ترجمۂکنزالعرفان: اے لوگو! جو کچھ زمین میں حلال پاکیزہ ہے اس میں سے کھاؤ اور شیطان کے راستوں پر نہ چلو، بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔
{کُلُوۡا مِمَّا فِی الۡاَرْضِ حَلٰلًا طَیِّبًا: جو کچھ زمین میں حلال پاکیزہ ہے اس میں سے کھاؤ ۔} مشرکین نے اپنی طرف سے بہت سے جانوروں کو حرام قرار دیا ہوا تھا ،اس کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی کہ زمین میں پیدا شدہ چیزیں اللہ تعالیٰ نے حلال کی ہیں اور لوگوں کے نفع کیلئے ہی انہیں پیدا کیا ہے لہٰذا صرف ان چیزوں سے بچو جنہیں اللہ تعالیٰ نے خود منع فرما دیا اور جن چیزوں سے اللہ  تعالیٰ نے منع نہیں فرمایا وہ سب حلال ہیں۔
 اللہ تعالیٰ کی حلال کی ہوئی چیزوں کو حرام قرار دینا کیسا ہے؟
	اس سے معلوم ہوا کہ اللہ  تعالیٰ کی حلال کی ہوئی چیزوں کو حرام قرار دینا اس کی رَزّاقِیَّت سے بغاوت ہے مسلم شریف کی حدیث ہے کہ اللہ  تعالیٰ فرماتا ہے: جو مال میں اپنے بندوں کو عطا فرماتا ہوں وہ ان کے لیے حلال ہے۔ اور اسی حدیث میں ہے کہ’’ میں نے اپنے بندوں کو باطل سے بے تعلق پیدا کیا پھر ان کے پاس شیاطین آئے اور انہوں نے