یہ قرآنِ مجید حفظ کرنے کے فضائل ہیں لہٰذا جس مسلمان سے بن پڑے وہ قرآن مجید حفظ کر کے ان فضائل کو حاصل کرنے کی کوشش کرے اور جنہوں نے قرآن مجید حفظ کر لیا ہے انہیں چاہئے کہ اسے روزانہ یاد کرتے رہیں تاکہ حفظ بھول نہ جائے ۔اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ ایک حدیث پاک کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں ’’یعنی جس طرح بندھے ہوئے اونٹ چھوٹنا چاہتے ہیں اور اگر ان کی محافظت واحتیاط نہ کی جائے تو رہا ہوجائیں اس سے زیادہ قرآن کی کیفیت ہے ،اگر اسے یاد نہ کرتے رہو گے تو وہ تمہارے سینوں سے نکل جائے گا ، پس تمہیں چاہئے کہ ہروقت اس کا خیال رکھو اور یاد کرتے رہو، اس دولت بے نہایت کوہاتھ سے نہ جانے دو۔
اسی طرح ایک اور حدیث پاک کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں ’’ یعنی اے قرآن والو!قرآن کو تکیہ نہ بنالو کہ پڑھ کے یاد کرکے رکھ چھوڑا ، پھر نگاہ اٹھا کر نہ دیکھا بلکہ اسے پڑھتے رہو دن رات کی گھڑیوں میں جیسے اس کے پڑھنے کاحق ہے اور اسے افشا کرو کہ خود پڑھو، لوگوں کو پڑھاؤ ، یاد کراؤ، اس کے پڑھنے، یاد کرنے کی ترغیب دونہ یہ کہ جو پڑھے اور خدا اسے حفظ کی توفیق دے اس کو روکو اور منع کرو۔
پھر فرماتے ہیں ’’اس سے زیادہ نادان کون ہے جسے خدا ایسی ہمت بخشے(کہ وہ قرآن پاک حفظ کر لے) اور وہ اسے اپنے ہاتھ سے کھودے ؟اگرقدر اس کی جانتا اور جو ثواب اور درجات اس پر مَوعود ہیں ان سے واقف ہوتا تو اسے جان و دل سے زیادہ عزیزرکھتا۔ (فتاویٰ رضویہ، ۲۳/۶۴۲-۶۴۵)
تلاوت ِقرآن کے آداب :
جب بھی قرآن مجید کی تلاوت کی جائے تو اس سے پہلے ان آداب اور شرعی احکام کا لحاظ رکھا جائے :
(1)…قرآن مجیددیکھ کر پڑھنا، زبانی پڑھنے سے افضل ہے کہ یہ پڑھنا بھی ہے اور دیکھنا اور ہاتھ سے اس کا چھونا بھی اور یہ سب چیزیں عبادت ہیں۔
(2)…مستحب یہ ہے کہ باوضو قبلہ رو اچھے کپڑے پہن کر تلاوت کرے اور تلاوت کے شروع میں ’’اَعُوْذُ‘‘ پڑھنا مستحب ہے اور سورت کی ابتداء میں ’’بِسْمِ اللہِ‘‘ پڑھنا سنت ہے ورنہ مستحب ہے۔(بہار شریعت، حصہ سوم، ۱/۵۵۰)