نجانے کتنی گیسیں ، کتنی تاثیرات اور ضروریات انسانی کی کتنی بنیادی چیزیں ہیں۔ صرف یہی دیکھ لیں کہ اگر ہوا نہ ہو تو تمام انسان دس منٹ کے اندر اندر مرجائیں ، زمین کے اوپر اور ہوا میں پائے جانے والے جانوروں کی حیات ختم ہوجائے۔ یہ تو قدرت ِ الٰہی کی ایک قسم کی صرف ایک تاثیر ہے جبکہ قدرت الٰہی کی کھربوں سے زائد قسموں میں ایک ایک چیز میں کروڑوں عجائبات ہیں۔ کسی زمانے میں آنکھ کو صرف دیکھنے کا ایک آلہ سمجھا جاتا تھا اور علمی ترقی کے ساتھ ساتھ آنکھ کے ایسے ایسے ظاہری و باطنی، جسمانی و روحانی عجائبات سامنے آرہے ہیں کہ اب صرف آنکھ سے متعلقہ علوم کی اقسام نہ جانے کتنی ہیں اور لاکھوں لوگ اس علم کے ماہر ہونے کے باوجوداس بات کا دعویٰ نہیں کرسکتے کہ ہم نے آنکھ سے متعلق ہر چیز کا علم حاصل کرلیا ہے۔
سائنسی علوم بھی اللہ تعالیٰ کی معرفت کا ذریعہ بنتے ہیں :
اس آیت مبارکہ اور اس کی تفسیر سے یہ بھی معلوم ہوا کہ سائنسی علوم بھی معرفت ِ الٰہی کا ذریعہ بنتے ہیں۔ جتنا سائنسی علم زیادہ ہوگا اتنی ہی اللہ تعالیٰ کی عظمت و قدرت کی پہچان زیادہ ہوگی، لہٰذا اگر کوئی دینِ اسلام کی خدمت اور اللہ تعالیٰ کی معرفت کی نیت سے سائنسی علوم سیکھتا ہے تو یہ بھی عظیم عبادت ہوگی نیز اللہ تعالیٰ نے جو کائنات میں غور و فکر کا حکم دیا ہے یہ اس حکم کی تعمیل بھی قرار پائے گی۔
وَمِنَ النَّاسِ مَنۡ یَّتَّخِذُ مِنۡ دُوۡنِ اللہِ اَنۡدَادًا یُّحِبُّوۡنَہُمْ کَحُبِّ اللہِؕ وَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَشَدُّ حُبًّا لِّلہِؕ وَلَوْ یَرَی الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡۤا اِذْ یَرَوْنَ الْعَذَابَۙ اَنَّ الْقُوَّۃَ لِلہِ جَمِیۡعًاۙ وَّاَنَّ اللہَ شَدِیۡدُ الْعَذَابِ﴿۱۶۵﴾
ترجمۂکنزالایمان:اور کچھ لوگ اللہ کے سوا اور معبود بنالیتے ہیں کہ انہیں اللہ کی طرح محبوب رکھتے ہیں اور ایمان والوں کو اللہ کے برابر کسی کی محبت نہیں۔ اور کیسی ہو اگر دیکھیں ظالم وہ وقت جب کہ عذاب ان کی آنکھوں کے سامنے آئے گا اس لئے کہ سارا زور خدا کو ہے اور اس لئے کہ اللہ کا عذاب بہت سخت ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور کچھ لوگ اللہ کے سوا اور معبود بنالیتے ہیں انہیں اللہ کی طرح محبوب رکھتے ہیں اور ایمان والے سب سے زیادہ اللہ سے محبت کرتے ہیں اور اگر ظالم دیکھتے جب وہ عذاب کو آنکھوں سے دیکھیں گے کیونکہ تمام قوت اللہ