لعنت کرنے سے متعلق شرعی مسائل:
یہاں آیت میں کافروں پرلعنت کی گئی ہے۔ یہ مسئلہ یاد رکھنا چاہیے کہ جس شخص کے کفر پر مرنے کا یقین نہ ہو اس پر لعنت نہ کی جائے نیز فاسق کا نام لے کر لعنت جائز نہیں جیسے کہا جائے ’’ فلاں شخص پر لعنت ہو‘‘البتہ وصف کے ساتھ لعنت کر سکتے ہیں جیسے احادیث میں جھوٹوں ، سود خوروں ، چوروں اور شرابیوں وغیرہ پر لعنت کی گئی ہے ۔ نیزوصف کے اعتبار سے لعنت قرآن پاک میں بھی کی گئی ہے جیسے جھوٹوں کے بارے میں فرمایا گیا کہ
’’لَعْنَتَ اللہِ عَلَی الْکٰذِبِیۡنَ‘‘ (آل عمران:۶۱)
ترجمۂکنزُالعِرفان:جھوٹوں پر اللہ کی لعنت۔
{وَالنَّاسِ اَجْمَعِیۡنَ: اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔} مومن تو کافروں پر لعنت کریں گے ہی ،بروزِ قیامت کافر بھی ایک دوسرے پر لعنت کریں گے۔
خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَاۚ لَا یُخَفَّفُ عَنْہُمُ الْعَذَابُ وَلَا ہُمْ یُنۡظَرُوۡنَ﴿۱۶۲﴾
ترجمۂکنزالایمان:ہمیشہ رہیں گے اس میں نہ ان پر سے عذاب ہلکا ہو اور نہ انہیں مہلت دی جائے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان:وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے، ان پر سے عذاب ہلکا نہ کیا جائے گا اور نہ انہیں مہلت دی جائے گی۔
{لَا یُخَفَّفُ عَنْہُمُ الْعَذَابُ: ان پر سے عذاب ہلکا نہ کیا جائے گا۔} کفار کو کبھی عذاب سے چھٹکارا نہ ملے گا اور نہ انہیں نیک اعمال کی یا توبہ کی مہلت دی جائے گی ۔کافر کا عمل اسے کچھ نفع نہیں دیتا البتہ علماء نے فرمایا ہے اور احادیث سے سمجھ آتا ہے کہ جس عمل کا تعلق نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی ذاتِ گرامی سے ہو اس سے کافر کو بھی فائدہ ہوتا ہے جیسا کہ بخاری و مسلم میں ہے کہ ابوطالب کے عذاب میں حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی برکت سے کمی ہوئی اور یونہی نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی ولادت کی خوشی میں ابو لہب نے اپنی لونڈی ثویبہ کو آزاد کیا تو جس انگلی کے اشارے سے اس نے آزاد کیا تھا اس سے اسے کچھ سیراب کیا جاتا ہے۔ یہی کلام علامہ عینیرَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے ابولہب والی حدیث کے تحت عمدۃ القاری جلد نمبر14 صفحہ45پر فرمایا ہے۔
وَ اِلٰـہُکُمْ اِلٰہٌ وّٰحِدٌۚ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیۡمُ﴿۱۶۳﴾٪