سورۂ بقرہ کی آیت نمبر 79میں بھی یہودیوں کی اس طرح کی حرکتوں کا بیان گزر چکا ہے۔
دینی مسائل چھپانے کی وعیدیں :
احادیث میں دینی مسائل چھپانے کی سخت وعیدیں بیان کی گئی ہیں ، چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، سرکارِ دوعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا:’’ جس سے علم کی کوئی بات پوچھی گئی جسے وہ جانتا ہے لیکن وہ اسے چھپاتا ہے تو قیامت کے دن اسے آگ کی لگام دی جائے گی۔‘‘ (ترمذی، کتاب العلم، باب ما جاء فی کتمان العلم، ۴/۲۹۵، الحدیث: ۲۶۵۸)
حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے روایت ہے،نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’ جو علم کے بغیر فتویٰ دے ا س پر زمین و آسمان کے فرشتے لعنت کرتے ہیں۔(ابن عساکر، محمد بن اسحاق بن ابراہیم۔۔۔ الخ، ۵۲/۲۰)
غلط مسائل بیان کرنے والوں ، بغیر پڑھے عالم و مفتی و محدث و مفسر کہلانے والوں اور قرآن و حدیث کی غلط تشریحات و توضیحات کرنے والوں کی آج کل کمی نہیں اور یہ سب مذکورہ آیت و احادیث کی وعید میں داخل ہیں۔ اسی وعید میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو ہیں تو محض کوئی آرٹیکل یا کالم لکھنے والے لیکن دین کو بھی اپنے قلم سے تختہ مشق بناتے ہیں۔
{یَلۡعَنُہُمُ اللہُ: اللہ ان پر لعنت فرماتا ہے۔} اسلام کی حقانیت، حضور اقدسصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی عظمت اور شریعت کے احکام چھپانے والوں پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے اور دیگر حضرات یعنی ملائکہ و مومنین کی بھی لعنت ہے۔
اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَمَاتُوۡا وَہُمْ کُفَّارٌ اُولٰٓئِکَ عَلَیۡہِمْ لَعْنَۃُ اللہِ وَالْمَلٰٓئِکَۃِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیۡنَ﴿۱۶۱﴾ۙ
ترجمۂکنزالایمان:بیشک وہ جنہوں نے کفر کیا اور کافر ہی مرے ان پر لعنت ہے اللہ اور فرشتوں اور آدمیوں سب کی ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اور کافر ہی مرے ان پراللہ اور فرشتوں او ر انسانوں کی ،سب کی لعنت ہے۔
{وَمَاتُوۡا وَہُمْ کُفَّارٌ: اور جو حالتِ کفر میں مرے۔} سب سے بدبخت آدمی کفر پر مرنے والا ہے اگرچہ اس کی ساری زندگی اعلیٰ درجے کی عبادت و ریاضت اور تبلیغ و خدمت ِ دین میں گزری ہو ۔کفر پر مرنے والوں پراللہ تعالیٰ