Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
260 - 520
	اورحضرت مطرف رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا بیٹا فوت ہوگیا۔ لوگوں نے انہیں بڑا خوش و خرم دیکھا تو کہا کہ کیا بات ہے کہ آپ غمزدہ ہونے کی بجائے خوش نظر آرہے ہیں۔ فرمایا: جب مجھے اس صدمے پر صبر کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے درود و رحمت اور ہدایت کی بشارت ہے تو میں خوش ہوں یا غمگین؟ (مختصرمنہاج القاصدین، کتاب الصبر والشکر، فصل فی آداب الصبر، ص۲۷۷)
	اورامام محمد غزالی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ’’ احیاء العلوم ‘‘میں فرماتے ہیں : ’’ حضرت فتح موصلی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی زوجہ پھسل گئیں تو ان کا ناخن ٹوٹ گیا،اس پر وہ ہنس پڑیں ،ان سے پوچھا گیا کہ کیا آپ کو درد نہیں ہو رہا؟ انہوں نے فرمایا: ’’اس کے ثواب کی لذت نے میرے دل سے درد کی تلخی کو زائل کر دیا ہے۔ 
(احیاء العلوم، کتاب الصبر والشکر، بیان مظان الحاجۃ الی الصبر۔۔۔ الخ، ۴/۹۰)
اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنۡ شَعَآئِرِ اللہِۚ فَمَنْ حَجَّ الْبَیۡتَ اَوِاعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیۡہِ اَنۡ یَّطَّوَّفَ بِہِمَاؕ وَمَنۡ تَطَوَّعَ خَیۡرًاۙ فَاِنَّ اللہَ شَاکِرٌ عَلِیۡمٌ﴿۱۵۸﴾ 
ترجمۂکنزالایمان: بیشک صفا اور مروہ اللہ کے نشانوں سے ہیں تو جو اس گھر کا حج یا عمرہ کرے اس پر کچھ گناہ نہیں کہ ان دونوں کے پھیرے کرے اور جو کوئی بھلی بات اپنی طرف سے کرے تو اللہ نیکی کا صلہ دینے والا خبردار ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں تو جو اس گھر کا حج یا عمرہ کرے اس پر کچھ گناہ نہیں کہ ان دونوں کے چکر لگائے اور جو کوئی اپنی طرف سے بھلائی کرے تو بیشک اللہ نیکی کابدلہ دینے والا، خبردار ہے۔
{اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنۡ شَعَآئِرِ اللہِ:بیشک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔}صبر اورصابرین کے اِجمالی بیان کے بعد اب صبر کا ایک مشہور اور عظیم واقعہ بیان کیا جارہا ہے۔ اس کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ صفاو مروہ مکہ مکرمہ کے دو پہاڑ ہیں جو کعبہ معظمہ کے بالمقابل مشرقی جانب واقع ہیں ،حضرت ہاجرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہااور حضرت اسماعیل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ان دونوں پہاڑوں کے قریب اس مقام پر جہاں زمزم کا کنواں ہے حکمِ الٰہی سے سکونت اختیار فرمائی۔ اس وقت یہ مقام سنگلاخ بیابان تھا، نہ یہاں سبزہ تھا نہ پانی، نہ خوردو نوش کا کوئی سامان۔ رضائے الٰہی کے لیے ان مقبول بندوں نے صبر کیا۔ حضرت اسماعیل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بہت کم عمر تھے،انہیں پیاس لگی اور جب پیاس کی شدت بہت زیادہ ہوگئی تو حضرت ہاجرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا بے تاب ہو کر کوہِ صفا پر تشریف لے گئیں وہاں بھی پانی نہ پایا تواُتر کر نیچے