وَالثَّمَرٰتِ ؕ وَبَشِّرِ الصّٰبِرِیۡنَ﴿۱۵۵﴾ۙ
ترجمۂکنزالایمان: اور ضرور ہم تمہیں آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے اور خوشخبری سنا ان صبر والوں کو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور ہم ضرورتمہیں کچھ ڈر اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے آزمائیں گے اور صبر کرنے والوں کوخوشخبری سنا دو۔
{وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ: اور ہم تمہیں ضرور آزمائیں گے۔} آزمائش سے فرمانبردار اور نافرمان کے حال کا ظاہر کرنا مراد ہے۔ امام شافعی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے بقول خوف سے اللہ تعالیٰ کا ڈر، بھوک سے رمضان کے روزے، مالوں کی کمی سے زکوٰۃ و صدقات دینا ،جانوں کی کمی سے امراض کے ذریعہ اموات ہونا، پھلوں کی کمی سے اولاد کی موت مراد ہے کیونکہ اولاد دل کا پھل ہوتی ہے،جیساکہ حدیث شریف میں ہے،سرکار دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا:’’ جب کسی بندے کا بچہ مرتا ہے تو اللہتعالیٰ فرشتوں سے فرماتا ہے:’’ تم نے میرے بندے کے بچے کی روح قبض کی ۔وہ عرض کرتے ہیں کہ ’’ہاں ، یارب! عَزَّوَجَلَّ، پھر فرماتا ہے:’’ تم نے اس کے دل کا پھل لے لیا ۔وہ عرض کرتے ہیں :ہاں ، یارب! عَزَّ وَجَلَّ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اس پر میرے بندے نے کیا کہا؟ فرشتے عرض کرتے ہیں : اس نے تیری حمد کی اور ’’اِنَّا لِلہِ وَ اِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ‘‘ پڑھا، اللہتعالیٰ فرماتا ہے:’’ اس کے لیے جنت میں مکان بناؤ اور اس کا نام بیتُ الحمد رکھو۔‘‘(ترمذی، کتاب الجنائز، باب فضل المصیبۃ اذا احتسب، ۲/۳۱۳، الحدیث: ۱۰۲۳)
آزمائشیں اور صبر:
یاد رہے کہ زندگی میں قدم قدم پر آزمائشیں ہیں ، اللہتعالیٰ اپنے بندوں کو کبھی مرض سے، کبھی جان و مال کی کمی سے، کبھی دشمن کے ڈر خوف سے، کبھی کسی نقصان سے، کبھی آفات و بَلِیّات سے اور کبھی نت نئے فتنوں سے آزماتا ہے اور راہِ دین اور تبلیغِ دین تو خصوصاً وہ راستہ ہے جس میں قدم قدم پر آزمائشیں ہیں ، اسی سے فرمانبردار و نافرمان، محبت میں سچے اور محبت کے صرف دعوے کرنے والوں کے درمیان فرق ہوتا ہے۔ حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامپر اکثرقوم کا ایمان
نہ لانا، حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا آگ میں ڈالا جانا، فرزند کو قربان کرنا، حضرت ایوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو