حرج نہیں ، اس لیے کہ اس سے آیت کا ترجمہ جاننے میں سہولت ہوتی ہے مگر تنہا ترجمہ طبع نہ کیا جائے۔
(3)…قرآنِ مجید کا حجم چھوٹا کرنا مکروہ ہے۔ مثلاً آج کل بعض مکتبوں والے تعویذی قرآنِ مجید چھپواتے ہیں جن کا قلم اتنا باریک ہے کہ پڑھنے میں بھی نہیں آتا، بلکہ گلے میں لٹکانے کے لئے بھی قرآنِ پاک نہ چھپوایا جائے کہ اس کا حجم بھی بہت کم ہوتا ہے۔
(4)…قرآنِ مجید پرانا بوسیدہ ہوگیا اور اس قابل نہ رہا کہ اس میں تلاوت کی جائے اور یہ اندیشہ ہے کہ اس کے اَوراق مُنتَشر ہو کر ضائع ہوں گے، توکسی پاک کپڑے میں لپیٹ کر احتیاط کی جگہ دفن کردیا جائے اور دفن کرنے میں اس کے لیے لَحد بنائی جائے، تاکہ اس پر مٹی نہ پڑے یا اس پر تختہ لگا کر چھت بنا کر مٹی ڈالیں کہ اس پر مٹی نہ پڑے۔ مصحف شریف بوسیدہ ہوجائے تو اس کو جلایا نہ جائے۔
(5)…قرآن مجید کے آداب میں سے یہ بھی ہے کہ اس کی طرف پیٹھ نہ کی جائے، نہ پاؤں پھیلائے جائیں ، نہ پاؤں کو اس سے اونچا کریں ، نہ یہ کہ خود اونچی جگہ پر ہواور قرآن مجید نیچے ہو۔
(6)…قرآن مجید کو جُزدان و غلاف میں رکھنا ادب ہے۔ صحابہ و تابعین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے زمانے سے اس پر مسلمانوں کا عمل ہے۔ (بہار شریعت، حصہ شانزدہم،۳/۴۹۴-۴۹۶، ملخصاً)
قرآن شریف کی تلاوت کرنے اور پڑھانے کے فضائل:
قرآنِ مجید کی تلاوت کرنے اور پڑھانے کے بہت سے فضائل ہیں ، چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
’’اِنَّ الَّذِیۡنَ یَتْلُوۡنَ کِتٰبَ اللہِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَ اَنۡفَقُوۡا مِمَّا رَزَقْنٰہُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَۃً یَّرْجُوۡنَ تِجَارَۃً لَّنۡ تَبُوۡرَ ﴿ۙ۲۹﴾ لِیُـوَفِّیَہُمْ اُجُوْرَہُمْ وَ یَزِیۡدَہُمۡ مِّنۡ فَضْلِہٖ ؕ اِنَّہٗ غَفُوۡرٌ شَکُوۡرٌ ﴿۳۰﴾‘‘ (فاطر: ۲۹،۳۰)
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک وہ لوگ جو اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں اور نماز قائم رکھتے ہیں اور ہمارے دئیے ہوئے رزق میں سے پوشیدہ اوراعلانیہ کچھ ہماری راہ میں خرچ کرتے ہیں وہ ایسی تجارت کے امیدوار ہیں جو ہرگز تباہ نہیں ہوگی ۔تاکہ اللہ انہیں ان کے ثواب بھرپور دے اور اپنے فضل سے اور زیادہ عطا کرے بیشک وہ بخشنے والا، قدر فرمانے والا ہے۔