Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
231 - 520
والوں کے لیے جیسے حضرت امام مہدی  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ وغیرہ کیلئے جو کچھ فرمایا ان سب کو تسلیم کرنا لازم ہے۔ 
{لِنَعْلَمَ مَنۡ یَّتَّبِعُ الرَّسُوۡلَ: تاکہ دیکھیں کون رسول کی پیروی کرتا ہے۔} قبلہ کی تبدیلی کی ایک یہ حکمت ارشاد ہوئی کہ اس سے مومن و کافر میں فرق و امتیاز ہوجائے گا کہ کون حضور اقدس  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے حکم پر قبلہ تبدیل کرتا ہے اور کون آپ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی نافرمانی کرتا ہے۔ چنانچہ قبلہ کی تبدیلی پر بہت سے کمزور ایمان والے اسلام سے پھر گئے، منافقین نے اسلام پر اعتراض شروع کر دئیے جبکہ پختہ ایمان والے اسلام پر قائم رہے۔ 
(تفسیرکبیر، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۴۳، ۲/۹۰)
{وَ اِنۡ کَانَتْ لَکَبِیۡرَۃً: اگرچہ یہ تبدیلی بڑی گراں ہے۔} قبلہ کی تبدیلی کو کاملُ الایمان لوگوں نے تو بڑی خوشدلی سے قبول کیا لیکن منافقوں پر یہ تبدیلی بڑی گراں گزری۔
منافقت کی علامت: 
	 اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کا حکم معلوم ہونے کے بعد قبول کرنے سے دل میں تنگی محسوس کرنا منافقت کی علامت ہے۔ہمارے معاشرے میں بھی لوگوں کی ایک تعداد ایسی ہے جن میں یہ مرض بڑی شدت اختیار کئے ہوئے ہے اور اسی مرض کی وجہ سے اللہ  تعالیٰ کے احکام پر عمل کرنا ان کے لئے بہت دشوار ہو چکا ہے حالانکہ کامل مسلمان کی شان تو یہ ہے کہ جب اسے اللہ  تعالیٰ کا کوئی حکم معلوم ہو جائے تو وہ اس کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دے اوراپنے نفس سے اٹھنے والی وہ آواز وہیں دبا دے جو اللہ  تعالیٰ کے حکم پر عمل کرنے کے معاملے میں اسے روک رہی ہو یا ا س کے دل میں تنگی پیدا کر رہی ہو۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ہدایت عطا فرمائے ۔
{وَمَا کَانَ اللہُ لِیُضِیۡعَ اِیۡمٰنَکُمْ: اور اللہ  کی یہ شان نہیں کہ تمہارا ایمان ضائع کردے ۔} قبلہ کی تبدیلی یہودیوں کو ہضم نہیں ہو رہی تھی اور یہ طرح طرح سے مسلمانوں کو اس کے خلاف بھڑکانے کی کوششیں کر رہے تھے،چنانچہ کچھ یہودیوں نے بیت المقدس کی طرف منہ کر کے پڑھی گئی نمازوں کے بارے میں مسلمانوں کے سامنے چند اعتراضات کئے اور بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کے زمانہ میں جن صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ نے وفات پائی ان کی نمازوں کے درست ہونے پر مسلمانوں سے دلیل مانگی تو ان کے رشتہ داروں نے تاجدار ِرسالت  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سے ان کی نمازوں کا حکم دریافت کیا کہ وہ نمازیں ہوئیں یا نہیں ؟ اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اوراِنہیں اطمینان دلایا گیا کہ ان صحابہ کرام رَضِیَ