Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
228 - 520
 کسی کو اعتراض کا کیا حق ہے؟ بندے کا کام فرمانبرداری کرناہے ۔ گویا فرمایا کہ اے حبیب !صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ فرما دو : ہم مشرق و مغرب کے پجاری نہیں کہ سمتوں پر اڑے رہیں بلکہ ہم تو اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی عبادت کرنے والے ہیں ، وہ جدھر منہ کرنے کا ہمیں حکم فرمائے ہم ادھر ہی منہ کر کے نماز پڑھتے ہیں اور پڑھتے رہیں گے۔
وَکَذٰلِکَ جَعَلْنٰکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَکُوۡنُوۡا شُہَدَآءَ عَلَی النَّاسِ وَیَکُوۡنَ الرَّسُوۡلُ عَلَیۡکُمْ شَہِیۡدًاؕ وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَۃَ الَّتِیۡ کُنۡتَ عَلَیۡہَاۤ اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنۡ یَّتَّبِعُ الرَّسُوۡلَ مِمَّنۡ یَّنۡقَلِبُ عَلٰی عَقِبَیۡہِؕ وَ اِنۡ کَانَتْ لَکَبِیۡرَۃً اِلَّا عَلَی الَّذِیۡنَ ہَدَی اللہُ ؕ وَمَا کَانَ اللہُ لِیُضِیۡعَ اِیۡمٰنَکُمْؕ اِنَّ اللہَ بِالنَّاسِ لَرَءُوۡفٌ رَّحِیۡمٌ﴿۱۴۳﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور بات یوں ہی ہے کہ ہم نے تمہیں کیا سب امتوں میں افضل کہ تم لوگوں پر گواہ ہواور یہ رسول تمہارے نگہبان و گواہ اور اے محبوب تم پہلے جس قبلہ پر تھے ہم نے وہ اسی لئے مقرر کیا تھا کہ دیکھیں کون رسول کی پیروی کرتا ہے اور کون الٹے پاؤں پھر جاتا ہے اور بیشک یہ بھاری تھی مگر ان پرجنہیں اللہ نے ہدایت کی اور اللہ کی شان نہیں کہ تمہارا ایمان اکارت کرے، بیشک اللہ آدمیوں پر بہت مہربان، مہر والا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اسی طرح ہم نے تمہیں بہترین امت بنایا تا کہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور یہ رسول تمہارے نگہبان و گواہ ہوں اور اے حبیب! تم پہلے جس قبلہ پر تھے ہم نے وہ اسی لئے مقرر کیا تھا کہ دیکھیں کون رسول کی پیروی کرتا ہے اور کون الٹے پاؤں پھر جاتا ہے اور بیشک وہ لوگ جنہیں اللہ نے ہدایت دی تھی ان کے علاوہ (لوگوں ) پریہ بہت بھاری تھی اور اللہ کی یہ شان نہیں کہ تمہارا ایمان ضائع کردے بیشک اللہ لوگوں پر بہت مہربان، رحم والا ہے۔
{وَکَذٰلِکَ جَعَلْنٰکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا: اور اسی طرح ہم نے تمہیں بہترین امت بنایا ۔} یعنی اے مسلمانو! جس طرح ہم نے تمہیں ہدایت دی اور خانہ کعبہ کو تمہارا قبلہ بنایا اسی طرح ہم نے تمہیں بہترین امت بنایا۔ حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی