Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
22 - 520
(3)…حضرت عبداللہ بن عمرو رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے، رسولِ کریم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’ قیامت کے دن قرآن کو ایک شخص کی صورت عطا کی جائے گی، پھر اسے ایک ایسے شخص کے پا س لایا جائے گا جو قرآن کا عالم ہونے کے باوجود اس کے حکم کی مخالفت کرتا رہا، قرآن اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہے گا: اے میرے رب! عَزَّوَجَلَّ، اس نے میرا علم حاصل کیا لیکن یہ بہت برا عالم ہے ،اس نے میری حدود کی خلاف ورزی کی، میرے فرائض کو ضائع کیا، میری نافرمانی میں لگا رہا اور میری اطاعت کو چھوڑ دیا۔ قرآن اس پر دلائل کے ساتھ الزامات لگاتا رہے گا یہاں تک کہ کہا جائے گا: اس کے بارے میں تیرا معاملہ تیرے سپرد ہے۔ قرآن ا س کا ہاتھ پکڑ کر لے جائے گا یہاں تک کہ اسے جہنم میں ایک چٹان پر اوندھے منہ گرا دے گا۔ پھر قرآن کو ایک ایسے نیک شخص کے پاس لایا جائے گا جو قرآن کاعالم تھا اور ا س کے حکم کی بجا آوری کرتا رہا ۔قرآن اس کے بارے میں کہے گا: اے میرے رب! عَزَّوَجَلَّ، اس نے میرا علم حاصل کیا اور یہ بہترین عالم ہے، اس نے میری حدود کی حفاظت کی، میرے فرائض پر عمل کیا، میری نافرمانی سے بچتا رہا اور میری اطاعت کرتا رہا۔ قرآن دلائل کے ساتھ اس کی حمایت کرتا رہے گا یہاں تک کہ کہا جائے گا :اس کے بارے میں تیرا معاملہ تیرے سپرد ہے،قرآن اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے لے جائے گا اور اسے موٹے ریشم کا حُلہ پہنائے گا، اس کے سر پر بادشاہی کا تاج سجائے گا اور اسے (جنتی )شراب کے جام پلائے گا۔(مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب فضائل القرآن، من قال: یشفع القرآن لصاحبہ یوم القیامۃ، ۷/۱۶۹، الحدیث: ۱)
قرآنِ حکیم کے مقاصد:
	یہاں تک قرآنِ مجیدکا تعارف، اس کی عظمتیں اور فضائل بیان ہوئے ،اب قرآن پاک نازل کرنے کے 4 مقاصد ملاحظہ ہوں۔
(1)…پوری امت کو اللہ  تعالیٰ کے عذاب سے ڈرانا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :’’وَ ہٰذَا کِتٰبٌ اَنۡزَلْنٰہُ مُبٰرَکٌ مُّصَدِّقُ الَّذِیۡ بَیۡنَ یَدَیۡہِ وَ لِتُنۡذِرَ اُمَّ الْقُرٰی وَ مَنْ حَوْلَہَا ؕ‘‘(انعام: ۹۲)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور یہ برکت والی کتاب ہے جسے ہم نے نازل فرمایا ہے ،پہلی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے اور اس لئے (اتری) تاکہ تم اس کے ذریعے مرکزی شہر اور اس کے اردگرد والوں کو ڈر سناؤ ۔ 
(2)…لوگوں کو کفر وجہالت کے اندھیروں سے ایمان کے نور کی طرف نکالنا۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: