{یَتْلُوۡنَہٗ: وہ اس کی تلاوت کرتے ہیں۔} حضرت عبداللہبن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمانے فرمایا :یہ آیت ان لوگوں کے متعلق نازل ہوئی جوحضرت جعفر بن ابی طالب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے ساتھ بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے تھے ،ان کی تعداد چالیس تھی، بتیس اہلِ حبشہ اور آٹھ شامی راہب تھے، ان میں بحیر اراہب بھی تھے جنہوں نے بچپن میں سفرِ شام میں نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو پہچانا تھا۔ (خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۲۱، ۱/۸۴-۸۵)
آیت کا مطلب یہ ہے کہ حقیقت میں توریت شریف پر ایمان لانے والے وہی ہیں جو اس کی تلاوت کا حق ادا کرتے ہیں اور بغیر تحریف و تبدیل کئے پڑھتے ہیں اور اس کے معنی کو سمجھتے اور مانتے ہیں اور اس میں حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی نعت و صفت دیکھ کر آپ پر ایمان لاتے ہیں اورجو حضور پرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے منکر ہوتے ہیں وہ توریت پر ایمان نہیں رکھتے۔
قرآن مجید کے حقوق:
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کتاب اللہ کے بہت سے حقوق بھی ہیں۔ قرآن کا حق یہ ہے کہ اس کی تعظیم کی جائے، اس سے محبت کی جائے، اس کی تلاوت کی جائے، اسے سمجھا جائے، اس پر ایمان رکھا جائے، اس پر عمل کیا جائے اور اسے دوسروں تک پہنچایا جائے۔ ترغیب کے لئے یہاں ہم تلاوت قرآن کے چند ظاہری اور باطنی آداب ذکر کرتے ہیں تاکہ مسلمان قرآن عظیم کی اس طرح تلاوت کریں جیسا تلاوت کرنے کا حق ہے۔
تلاوت ِ قرآن کے ظاہری آداب:
قرآن مجید کی تلاوت کرنے والے کو درجِ ذیل 6ظاہری چیزوں کا خیال رکھنا چاہئے۔
(1)… با وضو ہو کر،قبلہ رو ہو کر ،مؤدب ہو کر اور عجز و انکساری کے ساتھ بیٹھے۔
(2)…آہستہ پڑھے اور ا س کے معانی میں غورو فکر کرے ،تلاوت قرآن کرنے میں جلد بازی سے کام نہ لے۔
(3)…دوران تلاوت رونا بھی چاہئے اور اگر رونا نہ آئے رونے جیسی شکل بنا لے ۔
(4)…ہر آیت کی تلاوت کا حق بجالائے ۔
(5)…اگر قراء ت سے ریاکاری کا اندیشہ ہو یا کسی کی نماز میں خلل پڑتا ہو تو آہستہ آہستہ تلاوت کرے۔
(6)…جہاں تک ممکن ہو قرآنِ پاک کو خوش الحانی کے ساتھ پڑھے۔