Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
191 - 520
فضول سوال کر رہے ہو جس طرح ان سے پہلے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی قوم نے ان سے کہا تھا کہ ہمیں اعلانیہ خدا دکھا دو،  حالانکہ آیات ِ قرآنیہ کے نزول کے بعد دوسری نشانیوں کا مطالبہ کرنا سیدھے راہ سے بھٹکنا ہے۔(طبری، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۰۸، ۱/۵۳۰، در منثور، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۰۸،  ۱/۲۶۰-۲۶۱، جلالین مع صاوی، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۰۸، ۱/۹۹-۱۰۰، ملتقطاً)
صحیح مقصد کے بغیر سوال کرنا منع ہے:
	اس آیت سے معلوم ہوا کہ کسی صحیح مقصد کے بغیر سوال کرنا ممنوع ہے نیز فضول سوال کرنا بھی ممنوع ہے۔ لہٰذا عوام الناس کو چاہئے کہ اس بات کو پیش نظررکھیں کہ علماء اور مفتیانِ کرام سے وہی سوال کئے جائیں جن کی حاجت ہو، زمین پر بیٹھ کر خواہ مخواہ چاندپر رہائش کے سوال نہ کئے جائیں۔بعض لوگ علماء کو پریشان کرنے یا ان کا امتحان لینے یا ان کی لاعلمی ظاہر کرنے کیلئے سوال کرتے ہیں ،یہ سب ناجائز ہے۔حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے،سرکار دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا’’میں تمہیں جس کام سے منع کروں اس سے رک جاؤ اور جس کام کا حکم دوں اسے اپنی طاقت کے مطابق کرو، تم سے پہلے لوگوں کو محض ان کے سوالات کی کثرت اوراپنے انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے اختلاف کرنے نے ہلاک کیا۔ (مسلم، کتاب الفضائل، باب توقیرہ صلی اللہ علیہ وسلم۔۔۔ الخ، ص ۱۲۸۲، الحدیث: ۱۳۰ (۱۳۳۷))
من پسند حکم کا مطالبہ کرنایہودیوں کا طریقہ ہے:
	اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مسئلہ معلوم کرکے عمل کرنے کی بجائے خواہ مخواہ بال کی کھال اتارتے رہنا اور اپنے من پسند حکم کا مطالبہ کرنا یہودیوں اور مشرکوں کا طریقہ ہے۔ہمارے معاشرے میں بھی لوگوں کی ایک تعداد ایسی ہے جن کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ معاملات یا عبادات میں جو صورت انہیں درپیش ہے اس میں فتویٰ ان کی مرضی اور پسند کے عین مطابق ملے اور اگر انہیں کہیں سے کوئی ایک ایسی دلیل مل جاتی ہے جو ان کے مقصد و مفادکو پورا کر رہی ہوتی ہے تو وہ اسی پر اڑ جاتے ہیں اگرچہ اس کے خلاف ہزار دلائل موجود ہوں لیکن وہ چونکہ ان کی مراد کے خلاف ہوتے ہیں اس لئے انہیں قبول کرنے پر تیار نہیں ہوتے اور ان کے بارے میں طرح طرح کی الٹی سیدھی تاویلیں پیش کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو ہدایت عطا فرمائے۔
وَدَّ کَثِیۡرٌ مِّنْ اَہۡلِ الْکِتٰبِ لَوْ یَرُدُّوۡنَکُمۡ مِّنۡۢ بَعْدِ اِیۡمٰنِکُمْ کُفَّارًا ۚۖ