اور زیادہ ثواب والا یا کم از کم پہلے والے حکم کے برابر حکم لے آئیں گے۔پہلے سے زیادہ سہولت والے کی مثال ہے جیسے پہلے دس گنا تک کے لشکر سے جہاد کا حکم تھا پھر صرف دو گنا تک کے لشکر سے جہاد میں ڈٹے رہنے کا حکم نازل ہوا۔ زیادہ ثواب کی مثال ہے جیسے پہلے ایک قول کے مطابق روزے کی طاقت رکھنے والے کو بھی فدیہ دینے کی اجازت تھی لیکن بعد میں اس پر روزے کا حکم ہی متعین کردیا جو فدیہ سے زیادہ ثواب والا حکم ہے۔ سہولت میں برابر کے حکم کی مثال ہے جیسے بیت المقدس سے پھیر کر خانہ کعبہ کو قبلہ بنادیا گیا حالانکہ دونوں کی طرف منہ کر نماز پڑھنے میں برابر درجے کی سہولت ہے۔
اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللہَ لَہٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرْضِؕ وَمَا لَکُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللہِ مِنۡ وَّلِیٍّ وَّلَا نَصِیۡرٍ﴿۱۰۷﴾
ترجمۂکنزالایمان:کیا تجھے خبر نہیں کہ اللہ ہی کے لئے ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اور اللہ کے سوا تمہارا نہ کوئی حمایتی نہ مددگار۔
ترجمۂکنزالعرفان:کیا تجھے معلوم نہیں کہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کے لئے ہے اور اللہ کے مقابلے میں تمہارا نہ کوئی حمایتی ہے اور نہ ہی مددگار۔
{لَہٗ مُلْکُ: اسی کی بادشاہی ہے۔}اللہ تعالیٰ کو اختیار ہے کہ اپنے ملک میں جو چاہے جب چاہے قانون جاری کرے، جب کائنات میں تبدیلی ہوتی رہتی ہے، دن جاتا ہے رات آتی ہے اور سارے جہان میں ہر طرح تبدیلی ہوتی رہتی ہے توشرعی قانون میں بھی تبدیلی ہو سکتی ہے اوریہ تبدیلی مخلوق کی مصلحت کی وجہ سے ہے۔
{مِنۡ دُوۡنِ اللہِ: اللہ کے مقابلے میں۔}اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں کوئی کسی کی مدد نہیں کرسکتا ۔ ہاں اللہ تعالیٰ کی اجازت اور اختیار دینے سے مدد ہوسکتی ہے ، قرآن وحدیث میں اس کی کئی مثالیں موجود ہیں جیسے حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بیماروں ، کوڑھیوں اور نابیناؤں کی مدد کرتے تھے۔ فرشتوں نے غزوہ بدر اور غزوہ حُنَین میں مسلمانوں کی مدد کی۔ حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے وزیر نے تخت ِ بلقیس لا کر مدد کی۔ نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے سینکڑوں مرتبہ صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کی کھانے، پینے، بیماریوں اور پریشانیوں میں مدد کی۔ حضور غوث ِ پاک رَضِیَاللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اور اولیاء کرام رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ کامدد کرنا لاکھوں لوگوں کے تجربات اور تواتر سے ثابت ہے۔