مَا یَوَدُّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنْ اَہۡلِ الْکِتٰبِ وَلَا الْمُشْرِکِیۡنَ اَنۡ یُّنَزَّلَ عَلَیۡکُمۡ مِّنْ خَیۡرٍ مِّنۡ رَّبِّکُمْ ؕ وَاللہُ یَخْتَصُّ بِرَحْمَتِہٖ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَاللہُ ذُوالْفَضْلِ الْعَظِیۡمِ﴿۱۰۵﴾
ترجمۂکنزالایمان:وہ جو کافر ہیں کتابی یا مشرک وہ نہیں چاہتے کہ تم پر کوئی بھلائی اترے تمہارے رب کے پاس سے اور اللہ اپنی رحمت سے خاص کرتا ہے جسے چاہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔
ترجمۂکنزالعرفان:(اے مسلمانو!)نہ تو اہلِ کتاب کے کافر چاہتے ہیں اور نہ ہی مشرک کہ تمہارے او پر تمہارے رب کی طرف سے کوئی بھلائی اتاری جائے حالانکہ اللہ جسے چاہتا ہے اپنی رحمت کے ساتھ خاص فرمالیتا ہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔
{مَا یَوَدُّ: کافر نہیں چاہتے ۔}شانِ نزول :یہودیوں کی ایک جماعت مسلمانوں کے ساتھ دوستی اور خیر خواہی کا اظہار کرتی تھی ان کی تکذیب میں یہ آیت نازل ہوئی اورمسلمانوں کو بتایا گیا کہ یہ کفار خیر خواہی کے دعوے میں جھوٹے ہیں۔
مَا نَنۡسَخْ مِنْ اٰیَۃٍ اَوْ نُنۡسِہَا نَاۡتِ بِخَیۡرٍ مِّنْہَاۤ اَوْ مِثْلِہَا ؕ اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللہَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ﴿۱۰۶﴾
ترجمۂکنزالایمان:جب کوئی آیت ہم منسوخ فرمائیں یا بھلا دیں تو اس سے بہتر یا اس جیسی لے آئیں گے کیا تجھے خبر نہیں کہ اللہ سب کچھ کرسکتا ہے۔
ترجمۂکنزالعرفان:جب ہم کوئی آیت منسوخ کرتے ہیں یا لوگوں کو بھلا دیتے ہیں تو اس سے بہتر یا اس جیسی اور آیت لے آتے ہیں۔(اے مخاطب!)کیا تجھے معلوم نہیں کہ اللہ ہر شے پر قادر ہے۔
{مَا نَنۡسَخْ: ہم جو منسوخ فرمائیں۔} نسخ کا معنیٰ ہے: سابقہ حکم کو کسی بعد والی دلیلِ شرعی سے اٹھا دینا۔
(خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۰۶، ۱/۷۷)
اور یہ حقیقت میں سابقہ حکم کی مدت کی انتہاء کا بیان ہوتا ہے۔ اس آیت کاشان نزول یہ ہے کہ قرآن کریم نے گزشتہ شریعتوں اور کتابوں کو منسوخ فرمایا تو کفار کو بڑی وحشت ہوئی اور انہوں نے اس پر اعتراضات