Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
169 - 520
	حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے، حضور اقدسصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا: ’’آدمی کے دل میں ایمان اور حسد جمع نہیں ہوتے۔ (سنن نسائی، کتاب الجہاد، فضل من عمل فی سبیل اللہ۔۔۔ الخ، ص۵۰۵، الحدیث: ۳۶۱۰)
	حضرت معاویہ بن حیدہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے،حضور انورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا: ’’حسد ایمان کو اس طرح تباہ کر دیتا ہے جیسے صَبِر (یعنی ایک درخت کاانتہائی کڑوا نچوڑ) شہد کو تباہ کر دیتا ہے۔
(جامع صغیر، حرف الحائ، ص۲۳۲، الحدیث: ۳۸۱۹)
	یاد رہے کہ حسد حرام ہے اور اس باطنی مرض کے بارے میں علم حاصل کرنا فرض ہے۔اس سے متعلق مزید تفصیل جاننے کے لئے امام غزالی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی مشہور کتاب ’’احیاء العلوم ‘‘ کی تیسری جلد میں موجود حسد سے متعلق بیان مطالعہ فرمائیں۔
{فَبَآءُوْ بِغَضَبٍ عَلٰی غَضَبٍ: تو یہ لوگ غضب پر غضب کے مستحق ہوگئے۔}حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں : یہودی تورات کو ضائع کرنے اور ا س کے احکامات کو تبدیل کرنے کی وجہ سے پہلے غضب کے مستحق ہوئے اور حضور پر نورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے ساتھ کفر کرنے کی وجہ سے دوسرے غضب کے حقدار ٹھہرے۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ حضرت عیسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور انجیل کا انکار کرنے کی وجہ سے یہودی پہلے غضب کے مستحق ہوئے اور نبی کریم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ اور قرآن مجید کا انکار کرکے دوسرے غضب مستحق ہو گئے۔ (خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۹۰، ۱/۶۹) 
وَ اِذَا قِیۡلَ لَہُمْ اٰمِنُوۡا بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللہُ قَالُوۡا نُؤْمِنُ بِمَاۤ اُنۡزِلَ عَلَیۡنَا وَیَکْفُرُوۡنَ بِمَا وَرَآءَ ہٗ ٭ وَہُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَہُمْ ؕ قُلْ فَلِمَ تَقْتُلُوۡنَ اَنۡۢبِیَآءَ اللہِ مِنۡ قَبْلُ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤْمِنِیۡنَ﴿۹۱﴾
ترجمۂکنزالایمان:اور جب ان سے کہا جائے کہ اللہ کے اتارے پر ایمان لاؤ تو کہتے ہیں وہ جو ہم پر اترا اس پر ایمان لاتے ہیں اور باقی سے منکر ہوتے ہیں حالانکہ وہ حق ہے ان کے پاس والے کی تصدیق فرماتا ہوا تم فرماؤ کہ پھر اگلے انبیاء کو کیوں شہید کیا اگر تمہیں اپنی کتاب پر ایمان تھا۔
ترجمۂکنزالعرفان:اور جب ان سے کہا جائے کہ اس پر ایمان لاؤ جو اللہ نے نازل فرمایا ہے تو کہتے ہیں : ہم اسی پر ایمان لاتے ہیں جو ہمارے اوپر نازل کیا گیا اور وہ تورات کے علاوہ دیگر کا انکار کرتے ہیں حالانکہ وہ(قرآن) بھی حق