Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
154 - 520
میں پاتے ہیں۔ جب یہ اپنے سرداروں کے پاس جاتے تو وہ ان منافقوں کو ملامت کرتے ہوئے کہتے:کیا تم مسلمانوں کے سامنے ان کے آقا محمد مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے بارے وہ باتیں بیان کرتے ہو جو اللہ تعالیٰ  نے تمہاری کتاب میں بیان فرمائی ہیں تاکہ وہ اس کے ذریعے دنیا و آخرت میں تمہارے اوپر حجت قائم کر دیں کہ جب ہمارے آقا محمد مصطفی  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کا نبی برحق ہونا تمہاری کتابوں میں موجود ہے تو تم نے ان کی پیروی کیوں نہ کی؟ کیا تمہیں عقل نہیں کہ تمہیں یہ کام نہیں کرنا چاہئے۔			    (خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۷۶، ۱/۶۵)
	اس سے معلوم ہوا کہ حق پوشی اور سرکار دو عالم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے اوصاف کو چھپانا اوران کے کمالات کا انکار کرنا یہودیوں کا طریقہ ہے۔
وَمِنْہُمْ اُمِّیُّوۡنَ لَا یَعْلَمُوۡنَ الْکِتٰبَ اِلَّاۤ اَمَانِیَّ وَ اِنْ ہُمْ اِلَّا یَظُنُّوۡنَ﴿۷۸﴾
ترجمۂکنزالایمان:اور ان میں کچھ اَن پڑھ ہیں جو کتاب کو نہیں جانتے مگر زبانی پڑھ لینا یا کچھ اپنی من گھڑت اور وہ نرے گمان میں ہیں۔
ترجمۂکنزالعرفان:اور ان میں کچھ اَن پڑھ ہیں جو کتاب کو نہیں جانتے مگر زبانی پڑھ لینا یا کچھ اپنی من گھڑت اوریہ صرف خیال و گمان میں پڑے ہوئے ہیں۔ 
{اُمِّیُّوۡنَ: ان پڑھ۔} یہاں سے یہودیوں کے دوسرے گروہ کا تذکرہ ہے، فرمایا گیا کہ اب یہودیوں کے دوسرے گروہ کی سنئے کہ ان میں کچھ اَن پڑھ ہیں جو کتاب یعنی تورات کو خو د تو نہیں جانتے بلکہ اپنے مفاد پرست سرداروں کے بیانات پر ہی الٹے سیدھے خیال و گمان میں پڑے ہوئے ہیں کہ ان کی تو بخشش ہو ہی جائے گی۔ یہ انہی من گھڑت خیالات میں خوش ہیں۔ 
فَوَیۡلٌ لِّلَّذِیۡنَ یَکْتُبُوۡنَ الْکِتٰبَ بِاَیۡدِیۡہِمْ ٭ ثُمَّ یَقُوۡلُوۡنَ ہٰذَا مِنْ عِنۡدِ اللہِ لِیَشْتَرُوۡا بِہٖ ثَمَنًا قَلِیۡلًا ؕ فَوَیۡلٌ لَّہُمۡ مِّمَّا کَتَبَتْ اَیۡدِیۡہِمْ وَوَیۡلٌ لَّہُمْ مِّمَّا یَکْسِبُوۡنَ﴿۷۹﴾
ترجمۂکنزالایمان:تو خرابی ہے ان کے لئے جو کتاب اپنے ہاتھ سے لکھیں پھر کہہ دیں یہ خدا کے پاس سے ہے کہ
اس