(6)… جو اپنا مال اللہ تعالیٰ کے بھروسہ پر اس کی امانت میں دے اللہ تعالیٰ اس میں برکت دیتا ہے۔
(7)… والدین کی فرمانبرداری اللہ تعالیٰ کو پسند ہے۔
(8)… ماں باپ کی خدمت و اطاعت کرنے والوں کو دونوں جہانوں میں ملتا ہے۔
قَالَ اِنَّہٗ یَقُوۡلُ اِنَّہَا بَقَرَۃٌ لَّا ذَلُوۡلٌ تُثِیۡرُ الۡاَرْضَ وَلَا تَسْقِی الْحَرْثَ ۚ مُسَلَّمَۃٌ لَّاشِیَۃَ فِیۡہَا ؕ قَالُوا الۡـٰٔنَ جِئْتَ بِالْحَقِّ ؕ فَذَبَحُوۡہَا وَمَا کَادُوۡا یَفْعَلُوۡنَ﴿۷۱﴾٪
ترجمۂکنزالایمان:کہا وہ فرماتا ہے کہ وہ ایک گائے ہے جس سے خدمت نہیں لی جاتی کہ زمین جوتے اور نہ کھیتی کو پانی دے بے عیب ہے جس میں کوئی داغ نہیں بولے اب آپ ٹھیک بات لائے تو اسے ذبح کیا اور ذبح کرتے معلوم نہ ہوتے تھے۔
ترجمۂکنزالعرفان:(موسٰی نے) فرمایا: اللہ فرماتا ہے کہ وہ ایک ایسی گائے ہے جس سے یہ خدمت نہیں لی جاتی کہ وہ زمین میں ہل چلائے اور نہ وہ کھیتی کو پانی دیتی ہے۔ بالکل بے عیب ہے، اس میں کوئی داغ نہیں۔ (یہ سن کر) انہوں نے کہا: اب آپ بالکل صحیح بات لائے ہیں۔ پھر انہوں نے اس گائے کو ذبح کیا حالانکہ وہ ذبح کرتے معلوم نہ ہوتے تھے۔
{وَمَا کَادُوۡا یَفْعَلُوۡنَ: اور وہ ذبح کرتے معلوم نہ ہوتے تھے۔} بنی اسرائیل کے مسلسل سوالات اور اپنی رسوائی کے اندیشہ اور گائے کی گرانی قیمت سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ وہ ذبح کرنے کا قصد نہیں رکھتے مگر جب ان کے سوالات شافی جوابوں سے ختم کردیئے گئے تو انہیں ذبح کرنا ہی پڑا۔
وَ اِذْ قَتَلْتُمْ نَفْسًا فَادّٰرَءۡ تُمْ فِیۡہَا ؕ وَاللہُ مُخْرِجٌ مَّا کُنۡتُمْ تَکْتُمُوۡنَ﴿ۚ۷۲﴾
ترجمۂکنزالایمان:اور جب تم نے ایک خون کیا تو ایک دوسرے پر اس کی تہمت ڈالنے لگے اور اللہ کو ظاہر کرناجو تم چھپاتے تھے۔
ترجمۂکنزالعرفان:اور یاد کرو جب تم نے ایک شخص کو قتل کردیا پھر اس کا الزام کسی دوسرے پر ڈالنے لگے حالانکہ اللہ ظاہر کرنے والا تھااس کو جسے تم چھپا رہے تھے۔
{وَ اِذْ قَتَلْتُمْ: اورجب تم نے قتل کیا۔} یہاں اسی پہلے قتل کا بیان ہے جس کا اوپر واقعہ گزرا۔
فَقُلْنَا اضْرِبُوۡہُ بِبَعْضِہَا ؕ کَذٰلِکَ یُحْیِ اللہُ الْمَوْتٰی ۙ وَیُرِیۡکُمْ اٰیٰتِہٖ لَعَلَّکُمْ تَعْقِلُوۡنَ﴿۷۳﴾