Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
147 - 520
میراث بھی لے اور خون بہا بھی اور پھر دعویٰ کر دیا کہ مجھے خون بہا دلوایا جائے۔ قاتل کا پتہ نہ چلتا تھا۔ وہاں کے لوگوں نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے درخواست کی کہ آپ دعا فرمائیں کہ اللہ  تعالیٰ حقیقت حال ظاہر فرمائے، اس پر حکم ہوا کہ ایک گائے ذبح کرکے اس کا کوئی حصہ مقتول کے ماریں ، وہ زندہ ہو کر قاتل کے بارے میں بتادے گا۔ لوگوں نے حیرانی سے کہا کہ کیا آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہم سے مذاق کررہے ہیں کیونکہ مقتول کا حال معلوم ہونے اور گائے کے ذبح کرنے میں کوئی مناسبت معلوم نہیں ہوتی۔ اس پر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے جواب دیا، ’’میں اس بات سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں کہ میں مذاق کر کے جاہلوں میں سے ہوجاؤں۔  جب بنی اسرائیل نے سمجھ لیا کہ گائے کا ذبح کرنا مذاق نہیں بلکہ باقاعدہ حکم ہے تو انہوں نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسے اس کے اوصاف دریافت کیے اور بار بار سوال کرکے وہ لوگ قیدیں بڑھاتے گئے اور بالآخر یہ حکم ہوا کہ ایسی گائے ذبح کرو جو نہ بوڑھی ہو اور نہ بہت کم عمر بلکہ درمیانی عمر کی ہو، بدن پر کوئی داغ نہ ہو، ایک ہی رنگ کی ہو، رنگ آنکھوں کو بھانے والا ہو، اس گائے نے کبھی کھیتی باڑی کی ہو نہ کبھی کھیتی کو پانی دیا ہو۔ آخری سوال میں انہوں نے کہا کہ اب ہم ان شآء اللہ راہ پالیں گے۔ بہر حال جب سب کچھ طے ہوگیا تو ان کی تسلی ہوگئی پھر انہوں نے گائے کی تلاش شروع کر دی۔
	 ان کے اطراف میں ایسی صرف ایک گائے تھی، اس کا حال یہ تھا کہ بنی اسرائیل میں ایک صالح شخص تھے ان کا ایک چھوٹا بچہ تھا اور ان کے پاس ایک گائے کے بچے کے علاوہ اور کچھ نہ رہا تھا، انہوں نے اس کی گردن پر مہر لگا کر اللہ تعالیٰ کے نام پر چھوڑ دیا اور بارگاہِ حق میں عرض کی: یارب! عَزَّوَجَلَّ میں اس بچھیا کو اس فرزند کے لیے تیرے پاس ودیعت رکھتا ہوں تاکہ جب یہ فرزند بڑا ہو تویہ اس کے کام آئے۔ اس نیک شخص کا تو انتقال ہوگیا لیکن وہ بچھیا جنگل میں اللہ تعالیٰ کی حفا ظت میں پرورش پاتی رہی، یہ لڑکا جب بڑا ہوا تو صالح ومتقی بنا اور ماں کا فرمانبردار تھا۔ ایک دن اس کی والدہ نے کہا: اے نورِ نظر! تیرے باپ نے تیرے لئے فلاں جنگل میں خدا کے نام ایک بچھیا چھوڑی تھی وہ اب جوان ہوگئی ہوگی، اللہ تعالیٰ سے دعا کرو کہ وہ تجھے عطا فرمائے اورتو اسے جنگل سے لے آ۔ لڑکا جنگل میں گیا اور اس نے گائے کو جنگل میں دیکھا اوروالدہ کی بتائی ہوئی علامتیں اس میں پائیں اور اس کو اللہ تعالیٰ کی قسم دے کر بلایا تووہ حاضر ہوگئی۔ وہ جوان اس گائے کو والدہ کی خدمت میں لایا۔ والدہ نے بازار میں لے جا کر تین دینار پر فروخت کرنے