Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
137 - 520
طرف سے حکم ہوا کہ اپنا عصا پتھر پر مارو،چنانچہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے عصا مارا تو ا س پتھر سے پانی کے بارہ چشمے جاری ہوگئے اور بنی اسرائیل کے بارہ گروہوں نے اپنے اپنے گھاٹ کو پہچان لیا۔ 
انگلیاں ہیں فیض پر ٹوٹے ہیں پیاسے جھوم کر:
	یہاں ایک نکتہ قابل ذکر ہے کہ پتھر سے چشمہ جاری کرنا حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا عظیم معجزہ تھا جبکہ ہمارے آقا، حضور سید المُرسَلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے اپنی مبارک انگلیوں سے پانی کے چشمے جاری فرمائے اور یہ اس سے بھی بڑھ کر معجزہ تھا۔ حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالیٰ عَلَیْہِ فرماتے ہیں :حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُوَالسَّلَامکا یہ معجزہ کہ وہ پتھر سے پانی رواں فرما دیتے اور پتھر سے چشمہ برآمد کرتے تو ہمارے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے اپنی انگشت ہائے مبارک سے چشمہ جاری فرما دیا۔پتھر تو زمین ہی کی جنس سے ہے اور اس سے چشمے بہا کرتے ہیں لیکن اس کے برخلاف گوشت پوست سے پانی کا چشمہ جاری کرنا حد درجہ عظیم ہے۔   (مدارج النبوۃ، باب پنجم درذکر فضائل وی صلی اللہ علیہ وسلم، ۱/۱۱۰)
	اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالیٰ عَلَیْہِ کیاخوب فرماتے ہیں :
انگلیاں ہیں فیض پر ٹوٹے ہیں پیاسے جھوم کر		ندیاں پنج آب رحمت کی ہیں جاری واہ واہ
انبیاء کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے مدد طلب کرنے کا ثبوت:
	اس آیت میں لوگوں کا انبیاء کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی بارگاہ میں استعانت کرنے اور انبیاء کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ان کی مشکل کشائی فرمانے کا ثبوت بھی ہے۔تاجدار رسالتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی سیرت مبارکہ میں ایسے کئی واقعات ہیں جن میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی بارگاہ میں حاضر ہو کر لوگوں نے اپنی مشکلات عرض کیں اور آپ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ان کی مشکل کشائی فرمائی ،ان میں سے دو واقعات درج ذیل ہیں :
(1)…حضرت جابر بن عبداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں (میرے والد)  حضرت عبداللہ بن عمرو بن حرام رَضِیَاللہُ تَعَالٰی عَنْہُوفات پا گئے اور ان پر قرض تھا ’’ فَاسْتَعَنْتُ النَّبِیَّصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلٰی غُرَمَائِہٖ اَنْ یَضَعُوْا مِنْ دَیْنِہٖ‘‘تو میں نے نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سے ان کے قرض خواہوں سے متعلق مدد طلب کی کہ وہ ان کاقرضہ کچھ کم کر دیں۔ حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ا س بارے میں ان سے بات کی تو انہوں نے ایسا نہ کیا۔آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ