Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
132 - 520
(3)…بچھڑے کی پوجا کرکے مشرک ہوجانا ۔
	یہ ظلم آلِ فرعون کے مظالم سے بھی زیادہ شدید ہیں کیونکہ یہ افعال ان سے بعد ِ ایمان سرزد ہوئے، اس وجہ سے وہ مستحق تو اس کے تھے کہ عذاب الٰہی انہیں مہلت نہ دے اور فی الفور ہلاک کرکے کفر پر ان کا خاتمہ کردے لیکن حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے طفیل انہیں توبہ کا موقع دیا گیا، یہ اللہ  تعالیٰ کابڑا فضل ہے اور یہ قتل ان کے لیے کفارہ تھا۔
وَ اِذْ قُلْتُمْ یٰمُوۡسٰی لَنۡ نُّؤْمِنَ لَکَ حَتّٰی نَرَی اللہَ جَہۡرَۃً فَاَخَذَتْکُمُ الصّٰعِقَۃُ وَاَنۡتُمْ تَنۡظُرُوۡنَ﴿۵۵﴾ ثُمَّ بَعَثْنٰکُمۡ مِّنۡۢ بَعْدِ مَوْتِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوۡنَ﴿۵۶﴾
ترجمۂکنزالایمان:اور جب تم نے کہا اے موسٰیہم ہرگز تمہارا یقین نہ لائیں گے جب تک عَلانیہ خدا کو نہ دیکھ لیں تو تمہیں کڑک نے آلیا اور تم دیکھ رہے تھے ۔پھر مرے پیچھے ہم نے تمہیں زندہ کیا کہ کہیں تم احسان مانو ۔
ترجمۂکنزالعرفان:اور یاد کرو جب تم نے کہا: اے موسیٰ! ہم ہرگز تمہارا یقین نہ کریں گے جب تک اعلانیہ خدا کو نہ دیکھ لیں تو تمہارے دیکھتے ہی دیکھتے تمہیں کڑک نے پکڑ لیا۔پھر تمہاری موت کے بعد ہم نے تمہیں زندہ کیا تاکہ تم شکر ادا کرو۔ 
{لَنۡ نُّؤْمِنَ لَکَ:ہم ہرگز تمہارا یقین نہ کریں گے۔ }جب بنی اسرائیل نے توبہ کی اور کفارے میں اپنی جانیں بھی دیدیں تو اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام انہیں اِس گناہ کی معذرت پیش کرنے کیلئے حاضر کریں چنانچہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ان میں سے ستر آدمی منتخب کرکے طور پر لے گئے، وہاں جاکر وہ کہنے لگے: اے موسیٰ! عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام، ہم آپ کا یقین نہ کریں گے جب تک خدا کو علانیہ نہ دیکھ لیں ، اس پر آسمان سے ایک ہولناک آواز آئی جس کی ہیبت سے وہ سب مر گئے۔ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے گڑگڑا کر بارگاہِ الٰہی میں عرض کی کہ میں بنی اسرائیل کو کیا جواب دوں گا؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے ان ستر افراد کوزندہ فرمادیا۔(جمل، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۵۵، ۱/۸۰، تفسیر کبیر، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۵۵، ۱/۵۱۹، ملتقطاً)
انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی عظمت: 
	اس واقعہ سے شانِ انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بھی ظاہر ہوئی کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسے ’’ہم آپ