Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
123 - 520
نہیں کرتے تو وعظ و نصیحت کیوں کرتے ہو؟ کیونکہ عمل کرنا ایک واجب ہے اور دوسروں کو برائی سے روکنا دوسرا واجب ہے ۔ اگر ایک واجب پر عمل نہیں تو دوسرے سے کیوں رُکا جائے۔         (بیضاوی، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۴۴، ۱/۳۱۶)
	 حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ،ہم نے عرض کی :یا رسول اللہ !صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، ہم اس وقت تک (دوسروں کو) نیک اعمال کرنے کی دعوت نہ دیں جب تک ہم خود تمام نیک اعمال نہ کرنے لگ جائیں اور ہم اس وقت تک(لوگوں کو)برے کاموں سے منع نہ کریں جب تک ہم خود تمام برے کاموں سے رک نہ جائیں ؟ حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا’’(ایسا نہ کرو) بلکہ تم نیک اعمال کرنے کاحکم دو اگرچہ تم خود تمام نیک اعمال نہیں کرتے اور برے اعمال کرنے سے منع کرو اگرچہ تم تمام برے اعمال سے باز نہیں آئے۔(معجم الاوسط، باب المیم، من اسمہ محمد،۵/۷۷، الحدیث: ۶۶۲۸)
وَاسْتَعِیۡنُوۡا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوۃِ ؕ وَ اِنَّہَا لَکَبِیۡرَۃٌ اِلَّا عَلَی الْخٰشِعِیۡنَ﴿ۙ۴۵﴾ الَّذِیۡنَ یَظُنُّوۡنَ اَنَّہُمۡ مُّلٰقُوۡا رَبِّہِمْ وَاَنَّہُمْ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ﴿۴۶﴾٪
ترجمۂکنزالایمان:اور صبر اور نماز سے مدد چاہو اور بیشک نماز ضرور بھاری ہے مگر ان پر جو دل سے میری طرف جھکتے ہیں۔
جنہیں یقین ہے کہ انہیں اپنے رب سے ملنا ہے اور اسی کی طرف پھرنا ۔
ترجمۂکنزالعرفان:اور صبر اور نماز سے مددحاصل کرواور بیشک نماز ضرور بھاری ہے مگر ان پر جو دل سے میری طرف جھکتے ہیں۔جنہیں یقین ہے کہ انہیں اپنے رب سے ملنا ہے اور انہیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔
{وَاسْتَعِیۡنُوۡا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوۃِ:اور صبر اور نماز سے مددحاصل کرو۔}اس آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ اس سے پہلی آیات میں بنی اسرائیل کوسید المرسَلینصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَپر ایمان لانے ،ان کی شریعت پر عمل کرنے ،سرداری ترک کرنے اور منصب و مال کی محبت دل سے نکال دینے کا حکم دیا گیا اور ا س آیت میں ان سے فرمایا جا رہا ہے کہ اے بنی اسرائیل! اپنے نفس کو لذتوں سے روکنے کے لئے صبر سے مدد چاہو اور اگر صبر کے ساتھ ساتھ نماز سے بھی مدد حاصل کرو تو سرداری اورمنصب و مال کی محبت دل سے نکالنا تمہارے لئے آسان ہو جائے گا، بیشک نماز ضرور بھاری ہے البتہ ان لوگوں پر بھاری نہیں جو دل سے میری طرف جھکتے ہیں۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ اے مسلمانو! تم رضائے الٰہی کے حصول اور اپنی حاجتوں