خیال رہے کہ یہاں یاد کرنے سے مرادصرف زبان سے تذکرہ کرنا نہیں ہے بلکہ اس سے مرادیہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت و بندگی کرکے ان نعمتوں کا شکر بجالائیں کیونکہ کسی نعمت کا شکر نہ کرنا اس کو بھلادینے کے مترادف ہے۔
{وَاَوْفُوۡا بِعَہۡدِیۡۤ:اور میرا عہد پورا کرو۔} یعنی اے بنی اسرائیل!تم میرے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَپر ایمان لاکر وہ عہد پورا کرو جو تم نے مجھ سے کیا اور میں اس کے ثواب کے طور پر تمہیں جنت میں داخل کر کے تمہارے ساتھ کیا ہوا عہد پور اکروں گا اور اپنے عہد کو پورا کرنے کے معاملے میں کسی اور سے ڈرنے کی بجائے صرف مجھ سے ڈرو۔‘‘
اس آیت میں جس عہد کاذکر ہے ا س کے بارے میں ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد وہ عہد ہے جوسورہ مائدہ میں یوں مذکور ہے:
’’ وَلَقَدْ اَخَذَ اللہُ مِیۡثٰقَ بَنِیۡۤ اِسْرٰٓءِیۡلَ ۚ وَبَعَثْنَا مِنۡہُمُ اثْنَیۡ عَشَرَ نَقِیۡبًا ؕ وَقَالَ اللہُ اِنِّیۡ مَعَکُمْ ؕ لَئِنْ اَقَمْتُمُ الصَّلٰوۃَ وَاٰتَیۡتُمُ الزَّکٰوۃَ وَاٰمَنۡتُمۡ بِرُسُلِیۡ وَعَزَّرْتُمُوۡہُمْ وَ اَقْرَضْتُمُ اللہَ قَرْضًا حَسَنًا لَّاُکَفِّرَنَّ عَنۡکُمْ سَیِّاٰتِکُمْ وَلَاُدْخِلَنَّکُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیۡ مِنۡ تَحْتِہَا الۡاَنْہٰرُ ۚ فَمَنۡ کَفَرَ بَعْدَ ذٰلِکَ مِنۡکُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِیۡلِ ﴿۱۲﴾‘‘ (سورۂ مائدہ، آیت: ۱۲)
ترجمۂکنزالعرفان:بیشک اللہ نے بنی اسرائیل سے عہد لیااور ہم نے ان میں بارہ سردار قائم کیے اور اللہ نے فرمایا: بیشک میں تمہارے ساتھ ہوں۔ اگر تم نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دیتے رہو اور میرے رسولوں پر ایمان لاؤ اور ان کی تعظیم کرو اور اللہ کو قرض حسن دو توبیشک میں تم سے تمہارے گناہ مٹا دوں گا اور ضرور تمہیں ان باغوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں جاری ہیں تو اس (عہد) کے بعد تم میں سے جس نے کفر کیا تو وہ ضرور سیدھی راہ سے بھٹک گیا۔
دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے وہ عہد مراد ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے ذریعے بنی اسرائیل سے لیا کہ میں آخری زمانے میں حضرت اسماعیل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی اولاد میں ایک نبی کو بھیجنے والاہوں تو جس نے ان کی پیروی کی اور اس نور کی تصدیق کی جسے وہ لے کرآئے تو میں ا س کے گناہ بخش دوں گا اور اسے جنت میں داخل کروں گااور اسے دگنا ثواب عطا کروں گا۔ (جلالین، البقرۃ، تحت الآیۃ:۴۰، ص۸-۹، خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ:۴۰، ۱/۴۸، ملتقطاً)