Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
114 - 520
کسی نے دوسرے کا مال چوری یا غصب یا رشوت کے طور پر لیا ہے تو توبہ کیلئے مال واپس کرنا بھی ضروری ہے۔
قُلْنَا اہۡبِطُوۡا مِنْہَا جَمِیۡعًا ۚ فَاِمَّا یَاۡتِیَنَّکُمۡ مِّنِّیۡ ہُدًی فَمَنۡ تَبِعَ ہُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیۡہِمْ وَلَا ہُمْ یَحْزَنُوۡنَ﴿۳۸﴾ وَالَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَکَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِکَ اَصْحٰبُ النَّارِ ۚ ہُمْ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ﴿۳۹﴾٪
ترجمۂکنزالایمان:ہم نے فرمایا تم سب جنت سے اتر جاؤ پھر اگر تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت آئے تو جو میری ہدایت کا پیرو ہوا اسے نہ کوئی اندیشہ نہ کچھ غم۔اور وہ جو کفر کریں اور میری آیتیں جھٹلائیں گے وہ دوزخ والے ہیں ان کو ہمیشہ اس میں رہنا ۔
ترجمۂکنزالعرفان:ہم نے فرمایا: تم سب جنت سے اتر جاؤ پھر اگر تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت آئے تو جو میری ہدایت کی پیروی کریں گے انہیں نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔اور وہ جو کفر کریں گے اور میری آیتوں کوجھٹلائیں گے وہ دوزخ والے ہوں گے،وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔
{فَمَنۡ تَبِعَ ہُدَایَ:توجو میری ہدایت کی پیروی کریں۔}ہدایت ِ الٰہی کے پیروکاروں کیلئے بشارت ہے کہ انہیں نہ تو قیامت کی بڑی گھبراہٹ کا خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے بلکہ بے غم جنت میں داخل ہوں گے۔ یہاں جمع کے صیغے کے ساتھ سب کو اترنے کا فرمایا ، اس میں حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور حضرت حواء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا کے ساتھ ان کی اولاد بھی مراد ہے جوابھی حضرت آدمعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی پشت میں تھی۔ 
یٰبَنِیۡۤ اِسْرَآءِیۡلَ اذْکُرُوۡا نِعْمَتِیَ الَّتِیۡۤ اَنْعَمْتُ عَلَیۡکُمْ وَاَوْفُوۡا بِعَہۡدِیۡۤ اُوۡفِ بِعَہۡدِکُمْۚ وَ اِیّٰیَ فَارْہَبُوۡنِ﴿۴۰﴾
ترجمۂکنزالایمان:اے یعقوب کی اولادیاد کرو میرا وہ احسان جو میں نے تم پر کیا اور میرا عہد پورا کرو میں تمہارا عہد پورا کروں گااور خاص میرا ہی ڈر رکھو ۔