Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
111 - 520
کو ظالم کہے وہ کافر ہے ۔ اللہ تعالیٰ مالک اور مولیٰ ہے، وہ اپنے مقبول بندوں کے بارے میں جو چاہے فرمائے ،کسی دوسرے کی کیا مجال کہ وہ انبیاء کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسے متعلق کوئی خلافِ ادب کلمہ زبان پر لائے اور اللہ تعالیٰ کے اس طرح کے خطابات کو اپنی جرأت و بیباکی کی دلیل بنائے۔اس بات کویوں سمجھیں کہ بادشاہ کے ماں باپ بادشاہ کو ڈانٹیں اور یہ دیکھ کر شاہی محل کا جمعدار بھی بادشاہ کو انہی الفاظ میں ڈانٹنے لگے تو اس احمق کا کیا انجام ہوگا؟ ہمیں تو انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور محبوبانِ خدا کی تعظیم و توقیر اور ادب و اطاعت کا حکم دیا گیا ہے اور ہم پر یہی لازم ہے۔
 انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُوَالسَّلَامکی عصمت کا بیان:
	یہ بھی یاد رہے کہ انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام معصوم ہوتے ہیں اوران سے کوئی گناہ سرزد نہیں ہوتا،ان کے معصوم ہونے پربیسیوں دلائل ہیں۔ یہاں پر صرف 3 دلائل درج کئے جاتے ہیں۔
(1)…انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اللہ تعالیٰ کے چنے ہوئے اور مخلص بندے ہیں ،جیساکہ اللہ  تعالیٰ نے حضرت ابراہیم، حضرت اسحاق اور حضرت یعقوبعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بارے میں واضح طور پر ارشاد فرمایا:
اِنَّاۤ اَخْلَصْنٰہُمۡ بِخَالِصَۃٍ ذِکْرَی الدَّارِ(ص: ۴۶)
ترجمۂکنزالعرفان:بیشک ہم نے انہیں ایک کھری بات سے چن لیا وہ اس(آخرت کے) گھر کی یاد ہے۔
	اور حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بارے میں ارشاد فرمایا:
’’اِنَّہٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِیۡنَ﴿۲۴﴾ ‘‘ (یوسف: ۲۴)
ترجمۂکنزالعرفان:بیشک وہ ہمارے چنے ہوئے بندوں میں سے ہے ۔
	اور جو اللہ  تعالیٰ کے مخلص بندے ہیں شیطان انہیں گمراہ نہیں کر سکتا، جیسا کہ اس کا یہ اعتراف خود قرآن مجید میں موجود ہے:
’’قَالَ فَبِعِزَّتِکَ لَاُغْوِیَنَّہُمْ اَجْمَعِیۡنَ ﴿ۙ۸۲﴾ اِلَّا عِبَادَکَ مِنْہُمُ الْمُخْلَصِیۡنَ ﴿۸۳﴾‘‘(ص: ۸۲-۸۳)
ترجمۂکنزالعرفان:اس نے کہا: تیری عزت کی قسم ضرور میں ان سب کو گمراہ کردوں گا۔مگر جو ان میں تیرے چنے ہوئے بندے ہیں۔ 
اس سے معلوم ہوا کہ انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامپر شیطان کا داؤ نہیں چلتا کہ وہ ان سے گناہ یا کفر کرا دے۔
(2)…گناہ کرنے والا مذمت کئے جانے کے لائق ہے ،جبکہ انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بارے میں اللہ تعالیٰ