Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
108 - 520
تکبر کی مذمت:
	 اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ تکبرایسا خطرناک عمل ہے کہ یہ بعض اوقات بندے کوکفر تک پہنچا دیتا ہے،اس لئے ہر مسلمان کو چاہے کہ و ہ تکبر کرنے سے بچے ۔حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے،نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:’’ تکبر حق کی مخالفت کرنے اور لوگوں کو حقیر جاننے کا نام ہے ۔‘‘ 
(مسلم، کتاب الایمان، باب تحریم الکبر وبیانہ، ص۶۱، الحدیث: ۱۴۷(۹۱))
	حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے،حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا: ’’تکبر سے بچتے رہو کیونکہ اسی تکبر نے شیطان کو اس بات پر ابھارا تھا کہ وہ حضرت آد معَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو سجدہ نہ کرے۔(ابن عساکر، حرف القاف، ذکر من اسمہ قابیل، ۴۹/۴۰)
	حضرت سلمہ بن اکوع رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے،حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا: ’’آدمی دوسرے لوگوں کے مقابلے میں اپنی ذات کو بلند سمجھتا رہتا ہے یہاں تک کہ اسے تکبر کرنے والوں میں لکھ دیاجاتا ہے،پھر اسے وہی عذاب پہنچے گا جو تکبر کرنے والوں کو پہنچا۔(ترمذی، کتاب البر والصلۃ، باب ما جاء فی الکبر، ۳/۴۰۳، الحدیث: ۲۰۰۷)
وَقُلْنَا یٰۤاٰدَمُ اسْکُنْ اَنۡتَ وَزَوْجُکَ الْجَنَّۃَ وَکُلَا مِنْہَا رَغَدًا حَیۡثُ شِئْتُمَا ۪ وَلَا تَقْرَبَا ہٰذِہِ الشَّجَرَۃَ فَتَکُوۡنَا مِنَ الظّٰلِمِیۡنَ﴿۳۵﴾ فَاَزَلَّہُمَا الشَّیۡطٰنُ عَنْہَا فَاَخْرَجَہُمَا مِمَّا کَانَا فِیۡہِ ۪ وَقُلْنَا اہۡبِطُوۡا بَعْضُکُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ ۚ وَلَکُمْ فِی الۡاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّمَتٰعٌ اِلٰی حِیۡنٍ﴿۳۶﴾
ترجمۂکنزالایمان:اور ہم نے فرمایا اے آدم تو اور تیری بی بی اس جنت میں رہو اور کھاؤ اس میں سے بے روک ٹوک جہاں تمہارا جی چاہے مگر اس پیڑ کے پاس نہ جانا کہ حد سے بڑھنے والوں میں ہوجاؤ گے ۔تو شیطان نے جنت سے انہیں لغزش دی اور جہاں رہتے تھے وہاں سے انہیں الگ کردیا اور ہم نے فرمایا نیچے اترو آپس میں ایک تمہارا