Brailvi Books

جواری وشرابی کی توبہ
29 - 32
  عطاریہ میں بیعت ہونے کی سعادت بھی مل گئی ۔ 
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یہ بات مُسَلَّم ہے کہ صحبت انسان کو اچھا یا بُرا بناتی ہے اسی وجہ سے اسلام ہمیں بدمذہبوں سے دور رہنے اور ان کی صحبت سے بچتے رہنے کا حکم ارشاد فرماتا ہے چنانچہ سلطانِ دوجہاں صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کافرمانِ عبرت نشان ہے: ’’انہیں (یعنی بدمذہبوں کو) اپنے سے دور کرو اور ان سے دور بھاگو وہ تمہیں گمراہ نہ کردیں کہیں وہ تمہیں فتنے میں نہ ڈالیں ۔‘‘(مسلم مقدمہ، باب النہی عن الروایۃ عن الضعفاء۔۔۔۔ الخ،ص۹، حدیث: ۷)
	حضورِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں : ’’جو کسی بد مذہب کو سلام کرے یا اس سے بکشادہ پیشانی ملے یا ایسی بات کے ساتھ اس سے پیش آئے جس میں اس کا دل خوش ہو، اس نے اس چیز کی تحقیر کی جواللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر اتاری۔‘‘(تاریخ بغداد، ۱۰/۲۶۲) 
	رسولِ کریم  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عبرت نشان ہے: ’’جس نے کسی بد مذہب کی (تعظیم و) توقیر کی اس نے دین کے ڈھا دینے پر مدد دی۔‘‘(معجم الا وسط،من اسمہ محمد،۵/۱۱۸، حدیث: ۶۷۷۲) 
		مجلس اَ لْمَدِیْنَۃُ الْعِلْمِیّہ {دعوتِ اسلامی} شعبہ امیرِاَہلسنّت
۲۶محرم الحرام۱۴۳۷؁ھ بمطابق5 نومبر 2015؁ء