Brailvi Books

جواری وشرابی کی توبہ
28 - 32
 کیا۔الغرض سبز سبز گنبد کا تصور باندھ کر پڑھا جانے والا یہ دُرودُ و سلام میرے دِل کی مرجھائی کلیوں کو جلا بخشنے لگا۔ پھر ذکرُ اللّٰہ کا حلقہ لگا جس میں سب نے مل کر  ذکرُ اللّٰہ  شروع کیا ، ذکرالٰہی کا یہ پیارا پیارا انداز دیکھ بہت اچھا لگا ،عاشقان رسول نے وجدانی کیفیت سے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کا ذکر خیر کیا ، زندگی میں پہلی بار اتنی بڑی تعداد میں مل کر ذکرِ خدا اور ذکرِ مصطفٰے کر تے ہوئے دیکھا تو بڑاسرور ملا ۔ بعد ازاں باادب کھڑے ہوکرصلوٰۃ و سلام پڑھنے کی سعادت بھی ملی۔
	اختتامِ اجتماع میں دلوں کونرم کرنے والی دعا نے میرے دِل میں ایک محشربپا کردیا، عاشقانِ رسول نے بارگاہِ الٰہی سے اشکباری کرتے ، گڑگڑا تے اپنی قبر وآخرت کی بہتری طلب کی، خوفِ خدا کے انداز دیکھ کر میرا دل بھی موم ہوگیا اور بے ساختہ میری انکھیں اشک باری کرنے لگی، میں نے بھی بارگاہِ الٰہی میں رورو کر اپنی سابقہ بداعمالیوں اور بدمذہبیت سے توبہ کی اوراحکامِ اسلامی کے مطابق زندگی گزارنے اور مذہبِ مُہَذَّب اہلسنّت وجماعت سے ہر دم وابستہ رہنے کا پختہ ارادہ کرلیا، یوں اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ  میری قبر و آخرت سنورنے کا سامان ہوگیا۔ اس اجتماع سے مجھے کچھ ایسی روحانیت ملی کہ پھر اس کے بعد خود ہی ہفتہ وار اجتماع میں شرکت کرنے لگا۔ مدَنی ماحول کی برکت سے اہلسنّت و جماعت پر ثابت قدمی نصیب ہوئی اور کرم بالائے کرم سلسلۂ قادریہ رضویہ