Brailvi Books

جواری وشرابی کی توبہ
27 - 32
میں نے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی نیت کر ہی لی۔ اپنے ارادے کے مطابق جب عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ پرانی سبزی منڈی حاضر ہوا ، کثیر تعداد میں عاشقانِ رسول موجود تھے ، ہرطرف سنّتوں کی بہاریں تھیں ، زندگی میں پہلی بار سنّتوں کے عامل مسلمانوں کو دیکھ کر دل شاد ہوگیا ۔اس وقت شرکائے اجتماع انتہائی توجہ کے ساتھ مرکزی مجلس شوریٰ کے نگران حاجی محمد مشتاق عطاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی مرحوم کا سنّتوں بھرا بیان سن رہے تھے۔میں بھی بیان کی برکتیں لوٹنے کے لیے ان کے قرب میں بیٹھ کر آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کے ملفوظات سننے میں مشغول ہوگیا۔ بیان اس قدر پُرتاثیر اور دِل نشیں تھا کہ ہر ہر لفظ دِل و دماغ میں اترکر میرے اندر مدنی انقلاب برپا کرتا چلاگیا، خوف خدا اور عشق مصطفٰے سے بھرپور بیان سن کر ندامت سے میرا سر جھک گیا۔ 
	دعوت اسلامی کے سنّتوں بھرے مدنی ماحول کو دیکھ کر میں بے حد متأثر ہوا، اسی کی برکت سے بدمذہبوں کی بدمذہبیت مجھ پر منکشف ہوگئی ۔ بیان کے بعد دُرودُ و سلام کے نذرانے بارگاہِ رسالت میں پیش کئے گئے جب یک زبان ہوکر عاشقان رسول نے ’’اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَارَسُوْلَ اللّٰہ ، اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَاحَبِیْبَ اللّٰہ‘‘ کی صدائیں بلندکیں تو دل پر ایک سکون کی کیفیت طاری ہوگئی ، میں نے بھی جھوم جھوم کر محبت وعقیدت کے ساتھ دُرُودُ و سلام پیش