دین سے دوری اور صحیح العقیدہ مسلمانوں کی صحبت سے محرومی کے باعث گمراہیت کے عمیق گڑھے میں گرتا جارہا تھا اور یوں بدعقیدگی کا زہر میرے ایمان میں سرایت کرتا جارہا تھا ۔ پہلے پہل تو ان کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا تھا مگر پھر ان کے ساتھ مل کر ان کے معمولات میں بھی شامل ہونے لگا اور یوں اپنی آخرت کے ساتھ ساتھ دوسرے مسلمانوں کی بھی بربادیِ آخرت کا سامان کرنے میں مشغول ہوگیا۔ مجھے بدعقیدہ لوگوں سے نجات اور عاشقانِ رسول کا ساتھ کچھ اس طرح مُیَسَّر آیا کہ ہمارے محلے میں ایک مبلغِ دعوتِ اسلامی رہائش پذیر تھے۔ جن کا چہرہ داڑھی شریف کی سنّت سے معمور تھا اور سبز عمامہ شریف و سفید مدَنی لباس ان کے لباس کا لازمی جز تھا۔ وہ جب بھی مجھ سے ملتے مسکراہٹ ان کے چہرے پر ہوتی، ان کی سادگی و ملن ساری بھی ان کے کردار سے ظاہر ہوتی۔ ان کا یہ انداز مجھے بہت اچھا لگتا تھا۔ ایک روز انہوں نے مجھے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع کی دعوت دی۔ میں نے اس وقت ہامی بھرلی مگر اپنی غفلت کے باعث ان کی دعوت سنی ان سنی کردی۔ لیکن وہ نیکی کی دعوت کے جذبے سے سرشار تھے، وہ جب بھی مجھ سے ملتے سنّتوں بھرے اجتماع کی دعوت ضرور دیتے۔
یوں میرے بہانوں اور ان کی شفقتوں کا سلسلہ چلتا رہا مگر انھوں نے ہمت نہ ہاری بالآخر ان کابار بار نیکی کی دعوت دینارنگ لے آیا اور ایک بار